مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: گذشتہ ایک ہفتے سے عالمی ذرائع ابلاغ میں تل ابیب اور دوسرے شہروں میں صہیونی تنصیبات پر ایرانی حملوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ امریکی حمایت کے تحت کئی تہوں پر مشتمل صہیونی دفاعی نظام کی اس ناکامی پر عالمی مبصرین حیران ہیں۔
جرمن اخبار ڈوئچہ ویلی نے کہا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات کے مطابق ایران کے پاس میزائل کا وسیع ذخیرہ موجود ہے جوکہ مشرق وسطی میں بلیسٹک میزائلوں کے بڑے ذخائر میں سے ایک ہے۔ شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ ایران نے موقع پر ان میزائلوں کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ اکتوبر 2024 سے اب تک ایران نے اسرائیل کے خلاف بیلسٹک میزائلوں کی بڑی تعداد استعمال کی ہے۔

ایرانی میزائل ذخائر کے بارے میں برلین بین الاقوامی اسٹریٹیجک ادارے کے ماہر نے کہا کہ ایران نے گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک اسرائیل کے خلاف مائع اور ٹھوس ایندھن سے چلنے والے میزائلوں کو کامیابی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹھوس ایندھن سے چلنے والے میزائل جدید ترین ورژن ہیں جن میں خیبر شکن، حاج قاسم اور فاتح 1 شامل ہیں۔
قاھرہ الیوم نے ایران کی میزائل طاقت کے بارے میں معروف تجزیہ کار ڈاکٹر طلعت سلامہ کے حوالے سے کہا ہے کہ ماضی میں صہیونی دفاعی نظام کی بہت زیادہ تشہیر کی گئی تھی اور صہیونی دنیا کو مضبوط ترین اور موثر ترین دفاعی نظام کا دعوی کرتے تھے لیکن یہ سارا نظام ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں زمین بوس ہوگیا۔
ڈاکٹر طلعت نے مزید کہا کہ ایران صہیونی حکومت کے حملوں اور جارحیت کا جواب دے رہا ہے۔ صہیونی حکومت کا جدیدترین دفاعی نظام جس میں آئرن ڈوم اور ڈیوڈ سلنگز بھی شامل ہیں، ایرانی میزائلوں کا مقابلہ کرنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے۔ گذشتہ دنوں ہونے والے ایرانی حملے صہیونی دعوؤں کے تضاد کو مزید آشکار کررہا ہے۔
اناتولی نیوز نے اردن کے چیف آف اسٹاف کے سابق معاون اور دفاعی امور کے ماہر قاصد محمود کا تبصرہ شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے پاس میزائلوں کے کئی ورژن ہیں لہذا آئندہ ہونے والے حملے مزید شدید ہوں گے۔ ایرانی ہائپرسونک میزائل انتہائی باریک بینی سے اپنے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان میزائلوں کی رفتار بھی بہت تیز ہے۔ ان میزائلوں نے صہیونی فضائی دفاعی نظام کو سخت چیلنج دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل جدید ترین سسٹم سے لیس ہیں۔ ایران نے خصوصی منصوبہ بندی کے تحت پہلے مرحلے میں زیادہ میزائل فائر کیے تاکہ صہیونی دفاعی نظام کو جانچا جائے۔ اس کے بعد مرحلہ وار میزائلوں کی تعداد میں کمی گئی تاہم فائر ہونے والے میزائل نہایت تیزرفتار اور ہدف کو نشانہ بنانے میں زیادہ دقیق ہیں۔
میزائلوں کے بارے میں انتہائی مہارت سے تبصرہ کرنے والی ویب سائٹ “میزائل ٹریٹ” نے ایرانی میزائلوں کو روکنے میں امریکی اور صہیونی دفاعی سسٹم کی ناکامی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی میزائل “سجیل” ایک بلیسٹک میزائل ہے جو ٹھوس ایندھن سے چلتا ہے۔ یہ میزائل اپنی ساخت میں شہاب 3 سے شباہت رکھتا ہے تاہم یہ میزائل زمین کے مدار کے اندر اور باہر دونوں حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ سجیل کی لمبائی 18 میٹر، قطر 25۔1 میٹر، وزن تقریبا 3۔2 ٹن اور 2000 کلومیٹر تک 700 کلوگرام کا وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی چینل سی این این نے ایرانی ہائپر سونک میزائل فتاح کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اطلاعات کے مطابق فتاح 1 ایک جدید ترین اور آواز کی رفتار سے زیادہ تیزی سے چلنے والا میزائل ہے۔ یہ میزائل فضا میں حرکت کے دوران اچانک اپنا راستہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عراقی ویب سائٹ سومریہ نیوز نے ایرانی میزائل ٹیکنالوجی کے بارے میں کہا ہے کہ ایران کے پاس ایسے میزائلوں کا بڑا ذخیرہ ہے جو نہایت ہی باریک بینی سے اپنے ہدف کو نشانہ بناسکتے ہیں۔
ویب سائٹ نے مزید کہا ہے کہ ایرانی میزائلوں کی متنوع خصوصیات کی وجہ سے دشمن کا دفاعی نظام سنگین چلینجز سے روبرو ہیں۔ خبیر شکن اور فاتح 2 ایران کے جدیدترین میزائل شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح حاج قاسم بلیسٹک میزائل، رعد اور ذوالفقار میزائل بھی دشمن کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ایرانی میزائلوں نے صہیونی دفاعی نظام کو بہت بڑی شکست سے دوچار کیا ہے۔ ان میزائلوں نے کئی تہہ پر مشتمل صہیونی دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے اپنے اہداف کو انتہائی کامیابی اور باریک بینی سے نشانہ بنایا ہے۔
برطانوی جریدے نے مزید لکھا ہے کہ جدیدترین صہیونی دفاعی نظام فعال ہونے کے باوجود ایرانی میزائلوں مقبوضہ علاقوں کے اندر پہنچنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلنگز، ایرو3 اور تھاڈ سسٹم میں سے کوئی بھی ایرانی میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔
