اس حوالے سے ‘دی گارجین’ میں شائع رپورٹ کے مطابق ،کابل کے 70 لاکھ افراد کو ایک وجودی بحران کا سامنا ہے، جس پر دنیا کو فوری طور پر توجہ دینی چاہیے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کابل پہلا جدید شہر بن سکتا ہے جو مکمل طور پر پانی سے محروم ہو جائے۔ تیز شہری ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث گزشتہ دہائی کے دوران کابل کے زیرِ زمین پانی کی سطح 30 میٹر تک گر چکی ہے۔ دوسری جانب، شہر کے تقریباً نصف بور ویل ـ جو کہ پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ ہیں ـ خشک ہو چکے ہیں۔ فی الوقت زیرِ زمین پانی نکالنے کی شرح، قدرتی طور پر اس کے دوبارہ بھرنے کی شرح سے سالانہ 4 کروڑ 40 لاکھ مکعب میٹر زیادہ ہے۔ اگر یہ رجحانات جاری رہے، تو کابل کے تمام زیرِ زمین پانی کے ذخائر 2030 تک خشک ہو سکتے ہیں، جو شہر کے 70 لاکھ باشندوں کے لیے وجودی خطرہ ہے۔
کابل کے آبی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے مرسی کور افغانستان کے کنٹری ڈائریکٹر ڈین کری نے کہا “اس بحران کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس پر بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے۔ پانی نہ ہونے کا مطلب ہے کہ لوگ اپنی آبادیوں کو چھوڑ دیں گے، لہٰذا اگر عالمی برادری افغانستان کی پانی کی ضروریات کو نظر انداز کرے گی تو اس کے نتیجے میں مزید نقل مکانی اور افغانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔”
