دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی کا چڑیا گھر، جو 178 ایکڑ رقبے پر محیط ہے اور 1959 میں قائم ہوا تھا، حکومت کی جانب سے سنبھالا جا رہا تھا لیکن اب یہ چڑیا گھر نجی کمپنی کے ہاتھوں میں دیا جا رہا ہے جو صرف منافع کمانے کی فکر کرے گی نہ کہ جانوروں کی فلاح کی۔ انہوں نے اس نجکاری کو عوام، جانوروں اور ماحول کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ یہ حکومت عوام اور ملک کی جڑوں سے کٹا ہوا فیصلہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہلی کے چڑیا گھر کی نجکاری ملک کی عوامی ملکیتوں کو بیچنے کی ایک مسلسل اور خطرناک کوشش ہے جو کہ عوام کے مفادات کے خلاف ہے اور کانگریس اس کی شدید مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے بی جے پی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نجکاری کے فیصلے کو واپس لے اور عوامی اور قدرتی وسائل کی حفاظت کرے۔
