ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اگر امریکہ واقعی سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے دھمکیوں اور پابندیوں کی زبان ترک کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا، “اس قسم کی دھمکیاں ایران کے قومی مفادات کے خلاف کھلی دشمنی ہیں۔”
صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا، ’’میں چاہتا ہوں کہ (جوہری معاہدہ) اتنا سخت ہو کہ ہم معائنہ کاروں کے ساتھ کسی بھی جگہ جا سکیں، جو چاہیں حاصل کریں اور جو چاہیں اڑا دیں لیکن کسی انسان کی جان نہ جائے۔ ہم کسی لیبارٹری کو اڑا سکتے ہیں، بشرطیکہ وہاں کوئی موجود نہ ہو۔‘‘
