عدالت نے اپنے فیصلے میں کوئی تفصیلی منطق یا وضاحت پیش نہیں کی، بلکہ فریقین کو 5 جون اور 9 جون تک اپنے دلائل داخل کرنے کی مہلت دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ کے ایمرجنسی پاورز لا کے تحت عائد کردہ ٹیرف دوبارہ لاگو ہو گئے ہیں، اگرچہ کیس کی مکمل سماعت ابھی جاری ہے۔
قبل ازیں، ٹریڈ کورٹ نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کا سہارا لے کر غیر قانونی طور پر ’لیبریشن ڈے‘ ٹیرف اور کینیڈا، میکسیکو و چین جیسے ممالک پر تجارتی محصولات نافذ کیے، جو ان کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں۔
