حیدرآباد میں جسم فروشی کے اڈہ پر پولیس کا دھاوا

 

ریجیمنٹل بازار، سکندرآباد میں قائم قحبہ خانے پر حیدرآباد سٹی پولیس نے ایک خفیہ اطلاع پر چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے قحبہ خانے کے منتظم، بنگلہ دیشی خاتون سپلائر، ایک گاہک کو گرفتار کر لیا، جبکہ دو خواتین کو بازیاب کرایا گیا جن میں ایک بنگلہ دیشی شہری شامل ہے۔

 

یہ کارروائی کمشنر ٹاسک فورس نارتھ زون ٹیم، گولپورم پولیس اور خواتین اہلکاروں نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف گولپورم پولیس اسٹیشن میں جرم نمبر 92/2025 کے تحت تعزیرات، انسداد فحاشی ایکٹ 1956، پاسپورٹ ایکٹ 1967 اور فارنرز ایکٹ 1946 کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

 

**گرفتار ملزمان میں شامل ہیں:**

 

* **بمل سین عرف سبرتا کولی** (36 سال)، مغربی بنگال کا رہائشی، قحبہ خانے کا منتظم

* **ساکل حسین عرف ملا** (29 سال)، چٹاگانگ، بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والا، خواتین سپلائر

* **شیخ ناصر علی** (36 سال)، مغربی بنگال کا رہائشی، بطور گاہک گرفتار

 

پولیس کے مطابق اس گروہ کا ماسٹر مائنڈ بمل سین ہے جو ریجیمنٹل بازار میں قحبہ خانہ چلا رہا تھا۔ وہ خواتین کی فراہمی کے لیے ایک مفرور ملزم شیوا سے رابطے میں تھا، جو پونڈیچیری کے دو دیگر بنگلہ دیشی شہریوں بابو اور شیکا کے ذریعے خواتین فراہم کرواتا تھا۔ خواتین کو ساکل حسین کے ذریعے حیدرآباد پہنچایا جاتا تھا۔

 

پولیس نے موقع سے نقد رقم، موبائل فونز، استعمال شدہ اور غیر استعمال شدہ کنڈوم برآمد کیے۔ کارروائی کے دوران دو خواتین کو بازیاب کرایا گیا، جن میں سے ایک بنگلہ دیشی شہری ہے۔ پولیس نے بتایا کہ بمل سین گاہکوں سے فون اور آن لائن ادائیگی کے ذریعے رابطہ کرتا تھا۔

 

مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم غیر ملکیوں اور قحبہ خانوں کے خلاف کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔

 

کارروائی میں انسپکٹر پی راگھویندر (ٹاسک فورس)، انسپکٹر ایم مدھو کمار (گولپورم)، اور سب انسپکٹرز سی راگھویندر ریڈی، سرینواسولو داسو اور پی گیانادیپ شامل تھے۔

 

 

 

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *