وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد پاکستان نے ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی کا اعتراف کیا، جس کے مطابق کسی بھی گرفتار غیر ملکی شہری کو اپنے ملک کے سفارتی نمائندوں سے رابطے، ملاقات اور قانونی معاونت حاصل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ کلبھوشن جادھو کو مارچ 2016 میں پاکستان کے صوبے بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ ’را‘ (ریسرچ اینڈ اینالسس ونگ) کے ایجنٹ ہیں اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ 2017 میں پاکستانی فوجی عدالت نے انہیں جاسوسی اور تخریب کاری کے الزامات میں سزائے موت سنائی تھی۔
