اتل لونڈے نے نیوز ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’لاڈکی بہن‘ اور ’لاڈلا بھاؤ‘ جیسے نعرے صرف انتخابات تک محدود رہے۔ انتخابات ختم ہوتے ہی حکومت نے نہ صرف وعدے بھلا دیے بلکہ اسکیم کے بجٹ میں 10 ہزار کروڑ روپے کی زبردست کٹوتی کر کے تقریباً 40 لاکھ خواتین کو اس سے باہر کر دیا۔ انہوں نے کہا، “یہ محض کٹوتی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے، جس کے تحت خواتین کو استعمال کیا گیا۔”
لونڈے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر یہ اسکیم درست اور عوامی مفاد میں تھی تو حکومت نے اب اس میں کٹوتی کیوں کی؟ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت نے صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے اسکیم کا سہارا لیا اور اب عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
