سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا کہ اگر وہ وقف بورڈ میں غیر مسلموں کو جگہ دینا چاہتی ہے، تو کیا اسی منطق کے تحت مسلمانوں کو ہندو مذہبی بورڈز میں شامل کیا جائے گا؟ اس سوال نے ایک بار پھر اقلیتی اداروں کی خودمختاری اور مذہبی آزادی پر آئینی بحث کو ہوا دے دی ہے۔
سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کی اس رائے سے اتفاق نہیں کیا اور اس کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی کسی بورڈ کی میعاد ختم نہیں ہوئی ہے اور صرف عوامی مفاد کی عرضیوں کی بنیاد پر عدالت کو ایسے احکامات جاری نہیں کرنے چاہییں۔ عدالت نے بھی اس پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال کوئی حکم جاری نہیں کیا جائے گا، کیونکہ کوئی وقف بورڈ بذاتِ خود عدالت سے رجوع نہیں ہوا ہے۔
