بتایا جاتا ہے کہ جیل میں تہور رانا کو باقی قیدیوں کی طرح ہی رکھا گیا ہے، اسے الگ سے کوئی خاص سہولت مہیا نہیں کی گئی ہے۔ تہور رانا پانچ وقت کی نماز ادا کرتا ہے۔ جیل میں اسے روز دن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد تہور رانا کو ہر دوسرے دن اس کے وکیل سے ملنے کی اجازت ہے۔ اسے وہ سبھی سہولتیں مل رہی ہیں جو حراست میں موجود باقی قیدیوں کو دی جاتی ہے۔
تہوّر رانا نے مانگا قرآن، قلم اور کاغذ، این آئی اے نے پورے کیے مطالبات
