راہل گاندھی نے ملاقات کے بعد کہا، ’’میں نے آج تک ٹیکسٹائل ڈیزائن کے شعبے میں کسی او بی سی شخص کو ٹاپ پر نہیں دیکھا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ نہ صرف ٹیکسٹائل بلکہ دیگر صنعتوں میں بھی بہوجن طبقے کو نہ تو صحیح نمائندگی حاصل ہے، نہ تعلیم تک رسائی اور نہ ہی ان کے لیے کوئی مضبوط نیٹ ورک موجود ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’وکی جیسے نوجوانوں سے ملنا میرے لیے سیکھنے کا موقع ہوتا ہے۔ میں ان کے کام کو سمجھنا چاہتا ہوں، تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ ہندوستانی نوجوانوں میں غیر معمولی صلاحیت ہے لیکن وہ ایک ایسے نظام میں جکڑے ہوئے ہیں جو انہیں آگے بڑھنے نہیں دیتا۔ یہ نوجوان دراصل اس ناانصافی کے چکرویوہ میں پھنسے ‘ابھمنیو’ ہیں۔‘‘
