مغربی بنگال کے وزیر اور جمعیۃ علماء ہند کے ریاستی صدر صدیق اللہ نے اعلان کیا کہ وقف ترمیمی قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک کروڑ دستخطوں والا عرضداشت پی ایم مودی کو سونپا جائے گا۔
وقف ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ، تصویر سوشل میڈیا
وقف ترمیمی قانون کے خلاف ہندوستان کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ کچھ مقامات پر جلسۂ عام منعقد ہوا تو کہیں ریلی بھی نکالی گئی ہے۔ کولکاتا کے رام لیلا میدان میں آج ایک عظیم الشان مظاہرہ دیکھنے کو ملا جس میں لوگوں کی زبردست بھیڑ جمع ہوئی۔ اس مظاہرہ کے دوران مغربی بنگال حکومت میں وزیر اور جمعیۃ علماء ہند کے ریاستی صدر صدیق اللہ چودھری نے اعلان کیا کہ قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک کروڑ دستخط پر مبنی ایک عرضداشت وزیر اعظم نریندر مودی کو سونپا جائے گا۔
جمعیۃ کی ریاستی یونٹ کے ذریعہ منعقد اس احتجاجی مظاہرہ میں مسلم طبقات کے لوگوں کی زبردست بھیڑ دیکھنے کو ملی۔ اس احتجاجی مظاہرہ میں عیسائیوں اور سکھوں کی بھی بڑی تعداد نظر آئی۔ صدیق اللہ چودھری نے اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’2014 میں حکومت بنانے کے بعد بی جے پی نے 1159 ایکٹ کو منسوخ کر دیا۔ اس لیے وقف ترمیمی ایکٹ کو منسوخ کرنا پوری طرح سے ممکن ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء ہند پوری ریاست سے ایک کروڑ دستخط جمع کرے گی اور عوامی تحریک مہم کے تحت انھیں وزیر اعظم کو سونپے گی۔
صدیق اللہ چودھری کا کہنا ہے کہ ’’ہم ضلع در ضلع، شہر در شہر جائیں گے اور دستخط جمع کریں گے۔ پھر یہ عرضداشت وزیر اعظم مودی کو سونپ دیں گے۔ عوامی تحریک کے ذریعہ سے پہلے بھی قوانین کو منسوخ کیا گیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ قانون بھی منسوخ ہو جائے گا۔‘‘ انھوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ جمعیۃ اس ایکٹ کے خلاف قانونی جنگ میں مدد کے لیے چندہ مہم شروع کرے گی۔
دوسری طرف اجستھان کی اہم مسلم تنظیموں نے وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف ’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘ کی ملک گیر بیداری مہم کو مکمل حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیموں کے مطابق 10 اپریل سے 7 جولائی تک چلنے والی اس مہم کا مقصد بیداری پھیلانا ہے۔ ایک پریس کانفرنس مین ریاست کی مختلف مسلم تنظیموں کی نمائندگی کرنے والے ادارہ ’راجستھان مسلم فورم‘ نے اس مہم میں اپنی شراکت داری کا اعلان کیا۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے ریاستی نائب صدر حافظ منظور نے کہا کہ فورم کا منصوبہ سبھی مذاہب کے لیڈران، شہری اداروں اور سیاسی پارٹیوں تک پہنچنا ہے اور اس کا ہدف غلط جانکاریوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ وقف ترمیمی قانون قانون کے خلاف حمایت حاصل کرنا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
