دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی والوں کو پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ کوڑا اٹھانے کے لیے یوزر چارج کا اضافی ٹیکس برداشت کرنا پڑے گا، جو کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔


دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو
دہلی میں مکان مالکان کو اب کوڑا کے لیے ’یوزر چارج‘ دینا ہوگا، جس پر دہلی کانگریس نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی والوں کو پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ کوڑا اٹھانے کے لیے یوزر چارج کی شکل میں اضافی ٹیکس کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا، یہ بی جے پی اور عآپ کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کارپوریشن کمشنر کے حکم پر رہائشی علاقوں کے مکان مالکان کو ہر مہینے 50 سے 200 روپے کا یوزر چارج کوڑا مینجمنٹ کے لیے دہلی میونسپل کارپوریشن کو دینا ہوگا۔
دہلی کانگریس صدر کا کہنا ہے کہ یوزر چارج کا براہ راست اثر پراپرٹی مالکان پر پڑے گا۔ رہائشی پراپرٹی مالکان کو سالانہ کم از کم 600 روپے اور زیادہ سے زیادہ 2400 روپے پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ دینا ہوگا۔ 50 اسکوائر میٹر تک کے مکان پر 50 روپے ماہانہ، 50 سے 200 اسکوائر میٹر کے مکان پر 100 روپے اور 200 اسکوائر میٹر سے زیادہ والے مکان پر 200 روپے ماہانہ وصول کیا جائے گا۔ اسٹریٹ وینڈر سے بھی 100 روپے ماہانہ یا اضافی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ یوزر چارج پہلے کمرشیل پراپرٹی سے ہی وصول کیا جاتا تھا۔ یہ ذیلی اصول گزشتہ 7 سالوں سے ٹھنڈے بستے میں پڑا تھا، اچانک 26-2025 میں اسے نافذ کر کے دہلی کی عوام پر اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے۔ یہاں ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ دہلی میں 80 فیصد گھروں سے کوڑا اٹھایا ہی نہیں جا رہا ہے۔ کارپوریشن میں برسراقتدار عآپ کو پہلے 100 فیصد گھروں سے کوڑا اٹھانے کو یقینی بنانا چاہیے۔
دیویندر یادو نے اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ کمرشیل علاقوں میں یوزر چارج بڑھا دیا گیا ہے۔ اب دکانوں، کھانے پینے کے مقامات سے 500 روپے ماہانہ، گیسٹ ہاؤس، دھرمشالہ، ہاسٹل، بینک، کوچنگ سنٹر، ریسٹورینٹ، 3 اسٹار تک ہوٹل اور 50 بیڈ والے کلینک سے 2000 روپے ماہانہ وصول کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں 3 اسٹار سے بڑے ہوٹل، 50 بیڈ سے بڑے کلینک، میرج ہال سے 4000 سے 5000 روپے یوزر چارج وصول کیا جائے گا۔ دہلی کانگریس صدر نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کے ساھ یوزر چارج جوڑنا دہلی والوں پر اضافی معاشی بوجھ ہے۔ کانگریس پارٹی یوزر چارج وصول کرنے کے فیصلہ کی سخت مخالفت کرتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
