راہل گاندھی نے آفشور کانکنی کی اجازت دینے والا ٹنڈر رد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پی ایم مودی کو لکھا خط

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سمندری زندگی کے لیے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اثر کا کوئی اندازہ کیے بغیر آفشور کانکنی بلاک کو پرائیویٹ کمپنیوں کے لیے کھولنا فکر انگیز ہے۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی (فائل) / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی (فائل) / آئی اے این ایس</p></div>

راہل گاندھی (فائل) / آئی اے اینایس

user

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے۔ اس خط میں انھوں نے کیرالہ، گجرات اور انڈمان و نکوبار جزائر میں آفشور کانکنی کی اجازت دینے والے ٹنڈرس کو رد کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے سمندری زندگی کے لیے خطرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اثر کا کوئی اندازہ کیے بغیر آفشور کانکنی بلاک کو پرائیویٹ کمپنیوں کے لیے کھولنا فکر انگیز ہے۔

راہل گاندھی نے 25 مارچ کو تحریر کردہ اس خط میں وزیر اعظم سے کہا ہے کہ ساحلی طبقہ اس طریقے کی مخالفت کر رہے ہیں جس طرح سے ماحولیاتی اثر کا اندازہ کیے بغیر آفشور کانکنی کے لیے ٹنڈر جاری کیے گئے ہیں۔ یہ خط انھوں نے 30 مارچ کو شیئر کیا، جس میں لکھا گیا ہے کہ لاکھوں ماہی گیروں نے اپنا ذریعہ معاش اور طرز زندگی پر پڑنے والے اس کے اثرات کو لے کر سنگین فکر کا اظہار کیا ہے۔

راہل گاندھی نے اپنے واٹس ایپ چینل پر اس تعلق سے کہا کہ ’’میں نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر کیرالہ، گجرات اور انڈمان و نکوبار جزائر میں مقامی اسٹیک ہولڈرس سے مشورہ کیے بغیر یا ماحولیات سے متعلق مطالعہ کیے بغیر آفشور کانکنی کے لیے دی گئی اجازت کی مذمت کی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’آفشور کانکنی لاکھوں ماہی گیروں کے ذریعہ معاش کو متاثر کرے گا اور ہماری متنوع سمندر زندگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ یہ فیصلہ فوراً واپس لے۔‘‘ انھوں نے آفشور علاقہ معدنیات (ترقی و ریگولیٹری) ترمیم ایکٹ 2023 پر اپنا سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات کا مناسب اندازہ کیے بغیر پرائیویٹ کمپنیوں کے لیے آفشور کانکنی بلاک کھولنا فکر انگیز ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ مطالعہ سمندری زندگی کے لیے خطرہ اور مچھلیوں کی تعداد کی کمی سمیت اس کے منفی اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں وزارت کان کے ذریعہ 13 آفشور بلاک کے لائسنس دینے کے لیے ٹنڈرس مدعو کیے جانے کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ راہل گاندھی کہتے ہیں کہ ان 13 بلاک میں سے ماہی پروری کے لیے اہم جگہ کولم کے ساحل پر ریت کانکنی کے لیے 3 بلاک اور سمندر حیات تنوع کے مرکز گریٹ نکوبار جزائر کے ساحل پر ’پالی میٹیلک ناڈیول‘ کے لیے 3 بلاک شامل ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اسٹیک ہولڈرس کے ساتھ مشورہ کے بغیر یا ساحلی علاقوں کے لوگوں پر اس کے طویل مدتی سماجی و معاشی اثرات کا جائزہ لیے بغیر ہی ٹنڈرس جاری کی گئے۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ کیرالہ یونیورسٹی کے محکمہ آبی حیات سائنس و ماہی کی سمندری نگرانی تجربہ گاہ (ایم ایم ایل) کے سروے میں پایا گیا کہ آفشور کانکنی سے خصوصی طور سے کولم میں ماہی پروری پر تباہناک اثرات پڑ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ کیرالہ میں 11 لاکھ سے زیادہ لوگ مچھلی پکڑنے کے کاروبار پر منحصر ہیں، یہ ان کا روایتی پیشہ ہے اور یہ ان کے طرز زندگی سے بہت قریب سے جڑا ہوا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *