حیدرآباد میں دن دہاڑے ایڈوکیٹ کا قتل۔ ملزم اندرون 24 گھنٹے گرفتار

حیدرآباد ۔‌حیدرآباد کے چمپا پیٹ علاقے میں 24 مارچ کو ایک وکیل کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قتل واقعہ کے ملزم غلام دستگیر کو گرفتار کر لیا جو ایک خانگی الیکٹریشن بتایا گیا ہے۔

 

قتل کا واقعہ صبح 8:50 منٹ پراس وقت پیش آیا جب 56 سالہ وکیل ازرائیل اپنی صبح کی سیر کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔ جیسے ہی وہ اپنی ہونڈا ایکٹیوا گاڑی پر گھر کے قریب پہنچے غلام دستگیر نے ان پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ ایڈوکیٹ کو سینے پر گہرے زخم آئے اور وہ خون میں لت پت گر پڑے۔

 

حملہ کے دوران مقامی افراد نے مداخلت کی اور ایڈوکیٹ کو زخمی حالت میں اپولو ڈی آر ڈی او ہاسپٹل منتقل کیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

 

پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم غلام دستگیر کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ مقتول کا قاتل سے پرانا تعلق تھا۔ غلام دستگیر جو چمپا پیٹ میں رہائش پذیر ہے مقتول کے فلیٹ میں الیکٹریشن کے کام کے لیے آتا تھا۔ مقتول کے فلیٹ میں واچ مین کانتا راؤ  ڈیوٹی کرتا تھا اور اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا ۔

 

ملزم دستگیر کے ناجائز تعلقات واچ مین کی بیوی کے ساتھ قائم تھے۔ جب واچ مین  کانتا راؤ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ اپنی بیوی کے ساتھ شہر چھوڑ کر اپنے آبائی گاؤں چلا گیا۔

 

غلام دستگیر کو شک تھا کہ مقتول ایڈوکیٹ نے ہی واچ مین اور اس کی فیملی کو حیدرآباد چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔ اس رنجش کی بنا پر ملزم نے مقتول سے کئی بار جھگڑا کیا اور اسے دھمکیاں دیں۔ آخرکار 24 مارچ کی صبح ملزم نے چاقو سے وار کر کے ایڈوکیٹ کو ہلاک کر دیا۔

 

پولیس نے ملزم سے قتل میں استعمال ہونے والا چاقو، اس کا موبائل فون، مقتول کی گاڑی، ہیلمٹ، خون آلود کپڑے اور دیگر اشیاء برآمد کر لی ہیں۔ مقتول کی بیٹی ایراپاپو درکشا جو ایک انجینئرنگ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں نے اس سلسلے میں پولیس میں شکایت درج کرائی

 

جس پر آئی ایس سدن پولیس اسٹیشن میں قتل کا مقدمہ درج کیا اور قاتل کو گرفتار کرلیا۔

 

 

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *