اڈیشہ کے کالج میں نیپالی طلباء پر حملے کے الزام میں مزید 5 ملازمین گرفتار

نیپالی طالب علم کی موت اور کے آئی آئی ٹی، اڈیشہ میں طلباء پر حملے کے سلسلے میں مزید پانچ ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اتوار کو نیپالی نژاد طالبہ نے اپنے ہاسٹل کے کمرے میں خودکشی کرلی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

user

اڈیشہ میں ایک نیپالی طالبہ کی موت اور اس کے بعد وہاں کی طالبات کی پٹائی کے معاملے میں، پولیس نے جمعرات کو KIIT (کالنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی) کالج کے مزید 5 ملازمین کو نیپالی طالب علموں پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس گرفتاری کے بعد کے آئی آئی ٹی کیس میں اب تک کل 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں ایک انجینئرنگ کا طالب علم بھی شامل ہے۔ اس پر ایک 20 سالہ نیپالی طالب علم کو خودکشی پر اکسانے کا الزام ہے اور اسے پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

دراصل، اتوار کو نیپالی نژاد طالبہ نے اپنے ہاسٹل کے کمرے میں خودکشی کر لی تھی۔ واقعے کے بعد نیپالی طلباء نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کالج انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔ پولیس کے مطابق پیر کی صبح 11 بجے سے 12 بجکر 20 منٹ کے درمیان نیپالی طالب علم ہاسٹل خالی کر رہے تھے کہ کے آئی آئی ٹی کے ملازمین وہاں پہنچ گئے اور انہیں فوری طور پر وہاں سے جانے کے لیے دباؤ ڈالا جب طالب علموں نے کچھ دیر کی تو ملزم ملازمین نے غصے میں آکر گالیاں دینا شروع کر دیں۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملے کی تصدیق کے بعد پولیس نے ان پانچ ملازمین کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ان ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جہاں شواہد کی بنیاد پر عدالت نے ان کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

اس سے قبل، پولیس نے کے آئی آئی ٹی کے پانچ دیگر ملازمین کو بھی گرفتار کیا تھا، لیکن انہیں ضمانت دے دی گئی، جس سے پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ آپ کو بتا دیں کہ پولیس نے اس پورے معاملے میں دو الگ الگ معاملے درج کیے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *