مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، ایرانی وزیر پیٹرولیم محسن پاک نژاد نے بتایا کہ روسی کمپنیاں ایرانی تیل کے ذخائر کی ترقی کے لیے تہران کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی سطح پر تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم بہترین سفارت کاری کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر موجود مواقع کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
پاکنژاد نے بتایا کہ اوپیک کے سیکرٹری جنرل نے حال ہی میں ایران کا دورہ کیا اور باہمی تعاون پر بات چیت کی۔ انہوں نے اوپیک میں ایران کی اہمیت کو اجاگر کیا اور دوسرے ممبر ممالک کو ایران کی مدد کرنے کی ترغیب دی۔
ایران اور روس کے مشترکہ تیل کی منڈیوں میں تعاون کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکنژاد نے روسی کمپنیوں کے ساتھ تیل کے ذخائر کی ترقی اور تجارت میں جاری منصوبوں کی اشارہ کیا تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
وزیرتیل نے روس کے علاوہ دیگر ممالک کے اس نوعیت کے تعاون کا مثبت جواب دیا لیکن کسی ملک کا نام لینے سے گریز کیا۔
کینیڈین درآمدات پر بڑھائے گئے ٹیرف کے فوائد پر بات کرتے ہوئے پاکنژاد نے مزید کہا کہ ایران خاص طور پر تیل کے شعبے میں موجود نئے مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کا خواہاں ہے۔