ٹرمپ کی معافی اور جنوبی لبنان سے صہیونی فوجی انخلاء، مذاکرات میں واپسی کے لیے ایران کی شرائط

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران، امریکہ، قطر اور پاکستان کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے بورگن اشٹوک ریزورٹ میں ہونے والے چار فریقی مذاکرات کے پہلے دور کے بعد اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ایران نے مذاکرات میں واپسی کے لیے دو اہم شرائط عائد کر دی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت شروع ہونے والے ان مذاکرات کے لیے ساٹھ روزہ مدت مقرر کی گئی ہے۔ مذاکرات کا پہلا دور صرف آٹھ منٹ جاری رہا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس نشست میں ایرانی جوہری پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوئی، بلکہ گفتگو کا محور لبنان کی صورت حال اور مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر امریکہ کے عمل درآمد کا معاملہ رہا۔

جنیوا میں قائم عرب ٹیلی ویژن نیٹ ورک “المیادین” کے دفتر کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ایران نے مذاکرات معطل کرنے اور اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وفد صرف اس صورت میں مذاکرات میں واپس آئے گا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معذرت کریں اور اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی افواج واپس بلائے۔

المیادین کے مطابق ایران اب صرف اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کر رہا بلکہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔

دریں اثنا، ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے نمائندے نے بورگن اشٹوک سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مذاکرات مکمل طور پر ختم ہوچکے ہیں یا نہیں، تاہم موجودہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی وفد وطن واپس لوٹنے کے قریب ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ مذاکراتی دور سابقہ ادوار سے مختلف ہے اور مذاکرات کی موجودہ صورتحال اور ممکنہ نتائج کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے باضابطہ بیان کا انتظار کرنا ہوگا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *