آپریشن کوچ کے تحت
کاماریڈی میں منشیات اسمگلنگ پر کاری ضرب، ایک کروڑ 93 لاکھ سے زائد مالیت کا 387 کلو گرام گانجہ ناسک پہنچنے سے پہلے ضبط کاماریڈی پولیس کی بڑی کاروای
ضلع ایس پی راجیش چندرا کی پریس کانفریس
کاماریڈی(سیدکوثرعلی کی رپورٹ) پھلوں کی آڑ میں غیر قانونی طور پر اسمگل کیا جا رہا تقریباً 387.128 کلو گرام گانجہ کاماریڈی پولیس نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ضبط کر لیا۔ پولیس کے مطابق ضبط شدہ گانجہ کی مالیت 1 کروڑ 93 لاکھ 56 ہزار 400 روپے ہے۔ اس معاملے میں تین اسمگلروں کو گرفتار کرکے عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے یہ بات
ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) ایم راجیش چندرا، آئی پی ایس نے آج اپنے چیمبر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بتای انھوں نے بتایا کہ 20 جون کو اطلاع ملی تھی کہ اوڈیشہ سے مہاراشٹر کے ناسک تک گانجہ اسمگل کیا جا رہا ہے۔ اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی مدھوسودھن کی نگرانی میں پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور قومی شاہراہ نمبر 44 پر سخت چیکنگ شروع کی گئی۔
کیاسیم پلی کے قریب رائل دھابہ کے پاس ایک اشوک لیلینڈ گاڑی مشتبہ حالت میں روکی گئی۔ تلاشی لینے پر معلوم ہوا کہ گاڑی کے اوپری حصے میں کٹھل کے پھل رکھے گئے تھے جبکہ ان کےنیچے بوریوں میں بڑی مقدار میں گانجہ چھپایا گیا تھا۔
گرفتار ملزمان کی شناخت شیخ کریم اللہ عرف کریم (41 سال)، گائنی سبھاش (35 سال) اور شیخ رحیم (50 سال) ساکنان ضلع نظام آباد کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 387.128 کلو گرام گانجہ، ایک اشوک لیلینڈ گاڑی، دو موبائل فون، 500 روپے نقد اور کٹھل کے پھلوں کی کھیپ ضبط کر لی۔
ایس پی راجیش چندرا نے کہا کہ ’’نوجوانوں کے مستقبل کا تحفظ کاماریڈی پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ ‘آپریشن کوَچ’ کے تحت منشیات کے ناسور کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اسمگلر راستے بدل لیں، قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں فرار دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ کامیاب کارروائی انجام دینے والی پولیس ٹیم، جس میں ڈی ایس پی مدھوسودھن، رورل سی آئی شری دھر، دیون پلی ایس آئی رنجیت، بی بی پیٹ ایس آئی وجئے، پٹلم ایس آئی انجنیولو، ماچار یڈی ایس آئی انیل، سداشیو نگر ایس آئی پشپ راج اور دیگر اہلکار شامل ہیں، کو ایس پی نے مبارکباد دی۔
ایس پی نے عوام سے اپیل کی کہ اگرکہیں بھی منشیات کی غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع ہو تو فوراً ڈائل 100 یا قریبی پولیس اسٹیشن کو مطلع کریں۔ اطلاع دینے والوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی
