ایران سے معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کانگریس نہیں، اسرائیل ہے، امریکی اینکر

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، معروف امریکی میزبان اور مبصر ٹکر کارلسن نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی عمل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکی کانگریس نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت ہے۔

روسی نشریاتی ادارے کے مطابق کارلسن نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ بخوبی جانتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی اصل صلاحیت اسرائیل کے پاس ہے۔ اسرائیل ماضی کی طرح اس بار بھی معاہدے کے عمل کو متاثر کرنے اور اسے حتمی شکل اختیار کرنے سے روکنے کی کوشش کرے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان پہلا فنی اور تخصصی اجلاس آج سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی ثالثی کے تحت منعقد ہونے جا رہا ہے۔

کارلسن نے گزشتہ جمعرات کو اپنے تجزیے میں ایران اور امریکا کے حالیہ مفاہمتی عمل کا موازنہ سویز بحران سے کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا نے باضابطہ طور پر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ایران ایک فیصلہ کن علاقائی کردار کا حامل ملک ہے اور اس اعتراف نے حالات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مفاہمت نے یہ ظاہر کر دیا کہ دنیا کی سب سے بڑی اور مہنگی فوج رکھنے کے باوجود امریکا کے پاس دنیا کی چونتیسویں بڑی معیشت پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی مطلوبہ عسکری طاقت موجود نہیں ہے۔

کارلسن نے اپنی گفتگو کے اختتام پر دعوی کیا کہ جس طرح بحران سوئز نے برطانوی سلطنت کے زوال کو نمایاں کیا تھا، اسی طرح ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمت بھی امریکی عالمی غلبے کے بتدریج کمزور ہونے کی علامت بن سکتی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *