تلنگانہ رکشنا سینا مستقبل میں مضبوط متبادل سیاسی طاقت بن کر ابھرے گی
کانگریس حکومت میں مزدوروں اور کسانوں کی حالت انتہائی ابتر
رعیتو بھروسہ امداداور یوریا کی فراہمی میں مکمل ناکامی۔
وزراء عوامی وسائل لوٹنے میں مصروف
پداپلی میں صدر ٹی آر ایس کے کویتا کی پریس کانفرنس
سربراہ تلنگانہ رکشنا سینا کلواکنٹلہ کویتا نے پداپلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی حکومت اور مقامی قیادت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزراء بھٹی وکرامارکا، سریدھر بابو کے علاوہ پریم ساگر راؤ عوامی وسائل اور سنگارینی علاقوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ کویتا نے کہا کہ گزشتہ چار دنوں کے دوران “بائی باٹا” پروگرام کے تحت انہوں نے چنور، بیلّم پلی، منچریال، آصف آباد، کاغذ نگر، راماگنڈم اور منتھنی کے کوئلہ کانوں کا دورہ کیا اور مزدوروں اور عوام کے مسائل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ کل وہ بھوپال پلی کی کوئلہ کان کا دورہ کریں گی
۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تینوں اضلاع میں مقامی لیڈران عوامی مسائل کی یکسوئی کو نظر انداز کر تے غیر قانونی کمائی میں مصروف ہیں جبکہ کانگریس قائدین عوام کے بجائے اپنے خاندانوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں ۔ کویتا نے کسانوں کی حالت زار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دھان کی خریداری نہ ہونے کے باعث کسان شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور بعض مقامات پر کسان خودکشی کی کوششں کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک نوجوان کسان کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملرس کی جانب سے دھان نہ خریدنے پر اس نے خودکشی کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسان بھروسہ امداد اور یوریا کی فراہمی میں مکمل ناکام رہی ہے اور “یوریا ایپ” کے ذریعہ کسانوں کو مزید پریشان کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس ایپ کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا
۔کویتا نے کہا کہ حکومت صرف محدود اقسام کے دھان پر بونس دینے کی بات کر رہی ہے جبکہ انتخابات سے قبل تمام اقسام کے دھان پر بونس دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر حکومت کی واضح پالیسی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگارینی میں ملازمتوں اور کسان بھروسہ اسکیم کو سیاسی طورپر استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ ہزاروں نوجوان روزگار کے منتظر ہیں اور حکومت صرف محدود نوکریاں فراہم کر رہی ہے۔ کویتا نے الزام عائد کیا کہ کوئلہ بیلٹ علاقوں میں ریت، مٹی اور راکھ کے غیر قانونی کاروبار جاری ہیں اور مقامی عوام کو نظرانداز کیا جا رہا ہے
۔ انہوں نے کہا کہ پداپلی میں پتی پاکا ریزروائر کی تعمیر کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا اور نہ ہی دیگر ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے ماحولیاتی مسائل پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ راماگنڈم میں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور گوداوری کا پانی پینے سے بیماریوں کا خدشہ لاحق ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ کی یکسوئی کے لئےحکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا
۔ کویتا نے کہا کہ کانگریس نے ایک سال میں دو لاکھ ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک بہت کم نوکریاں فراہم کی گئی ہیں جبکہ لاکھوں نوجوان بے روزگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام موجودہ حکومت سے عاجزآ چکے ہیں اور متبادل کی تلاش میں ہیں اور تلنگانہ رکشنا سینا ہی مستقبل میں ایک مضبوط متبادل سیاسی طاقت بن کر ابھرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کرپشن سے پاک حکمرانی، مزدوروں کے حقوق اور سنگارینی کے لئے مزید وسائل کی فراہمی کے خصوص میں جدوجہد جاری رکھے گی۔
