کوٹا میں راہل گاندھی کا تعلیمی نظام پر سخت حملہ، کہا- ’یہ طلبہ کے خواب پورے نہیں بلکہ انہیں مسترد کرنے کا نظام ہے‘

انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کے اصل خوابوں اور دلچسپیوں کو اہمیت نہیں دیتا۔ راہل گاندھی نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب چند طالبات کو پہلی بار ہیلی کاپٹر میں سفر کا موقع ملا تو ان میں سے کئی نے پائلٹ بننے کی خواہش ظاہر کی، حالانکہ اس سے پہلے کسی نے یہ خواب بیان نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو مختلف امکانات سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔

خطاب کے دوران راہل گاندھی نے آکانکشا نامی طالبہ کا ذکر بھی کیا جو ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ پرچہ لیک ہونے اور دیگر مشکلات کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی اور اپنی جان دے دی۔ راہل گاندھی نے اس واقعے کو تعلیمی نظام کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو ایسی صورتحال سے دوچار نہیں ہونا چاہیے جہاں وہ اپنے مستقبل کے بارے میں شدید مایوسی محسوس کریں۔

بعد ازاں پروگرام میں موجود طلبہ کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا جنہوں نے نیٹ، جے ای ای اور سول سروس امتحانات کی تیاری کے دوران درپیش مشکلات بیان کیں۔ طلبہ نے کہا کہ امتحانات کی تیاری میں کئی سال اور لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، لیکن کامیابی کے امکانات انتہائی محدود ہیں۔ بعض طلبہ نے بتایا کہ کوچنگ، رہائش، کتابوں اور دیگر اخراجات پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *