مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بحری محاصرے کا خاتمہ اور تمام محاذوں پر امن مفاہمت کا پہلا نکتہ ہے، جبکہ 40 روزہ جنگ میں عوام، مسلح افواج، میڈیا اور سفارت کاری نے مل کر دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔
تفصیلات کے مطابق ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے گزشتہ ایک سال کے دوران نہایت کٹھن اور حساس مراحل سے گزر کر اپنی استقامت کا ثبوت دیا ہے۔ دشمن نے 12 روزہ جنگ کے بعد یہ اندازہ لگایا کہ ایران کی سب سے بڑی طاقت اس کا سماجی اتحاد اور عوامی یکجہتی ہے، اسی لیے اس قوت کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی اور مزید بڑی جنگ کی تیاری کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں ایران کو 40 روزہ جنگ کا سامنا کرنا پڑا، جس میں دشمن یہ سمجھتا تھا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کر لے گا، لیکن ایرانی عوام اور مسلح افواج کی بے مثال مزاحمت نے ان تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔
عراقچی نے کہا کہ اس کامیابی کا پہلا سہرا مسلح افواج کے سر جاتا ہے، جن کے افسران، جوانوں اور شہداء نے جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وطن کا دفاع کیا۔ لانچرز پر موجود اہلکاروں سے لے کر بحری یونٹوں اور مختلف دفاعی مراکز میں موجود مجاہدین تک سب نے تاریخی کردار ادا کیا اور کسی لمحے بھی ملک کو تنہا نہیں چھوڑا۔
وزیر خارجہ نے عوامی کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ جنگ اور جنگ بندی کے دوران ایرانی عوام مسلسل میدان میں موجود رہے، مشکلات کا سامنا کیا، صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور قومی وحدت کو برقرار رکھا۔ یہ عوامی بیداری اور جذبہ ایک نئی اجتماعی بیداری کی صورت میں سامنے آیا۔
انہوں نے کہا کہ قومی میڈیا بالخصوص سرکاری نشریاتی ادارے نے بھی اہم کردار ادا کیا اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر حقائق کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سفارت کاری نے بھی عالمی سطح پر ایرانی عوام کی آواز بننے اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔
عباس عراقچی نے دفاع اور سفارت کاری کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں بلکہ مکمل یگانگت پائی جاتی ہے۔ دفاع اور سفارت کاری ایک ہی مقصد کے لیے مختلف محاذوں پر سرگرم ہوتے ہیں۔ میڈیا اس عمل کا تیسرا ستون ہے، جبکہ حالیہ حالات میں عوامی شرکت چوتھے ستون کے طور پر سامنے آئی ہے۔
وزیر خارجہ کے مطابق حالیہ بحران میں چار بنیادی عناصر یعنی دفاع، سفارت کاری، میڈیا اور عوامی موجودگی نے مل کر قومی مفادات کی حفاظت کی اور دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا۔
انہوں نے کہا کہ سفارت کاری کا بنیادی فریضہ دفاعی میدان میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مذاکرات اور معاہدوں کے ذریعے مستحکم کرنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت وزارت خارجہ اور مسلح افواج کے درمیان مسلسل اور قریبی رابطہ برقرار رہا اور دونوں اداروں نے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا۔
وزیر خارجہ نے موجودہ مفاہمتی یادداشت میں تمام محاذوں پر جنگ بندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس جنگ میں لبنان کو کبھی فراموش نہیں کیا، کیونکہ لبنان اور حزب اللہ لبنان ایرانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ اسی بنیاد پر کشیدگی اور لڑائی کے خاتمے میں تمام محاذ، بشمول لبنان، شامل ہوں گے۔
عراقچی نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی مذاکراتی عمل مضبوط زمینی طاقت اور قومی اقتدار کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ مذاکرات کاروں کی مہارت اپنی جگہ اہم ہوتی ہے، لیکن اصل کامیابی اس قوت کی مرہون منت ہوتی ہے جو میدان میں حاصل کی جاتی ہے اور بعد ازاں سفارتی سطح پر اسے سیاسی اور قانونی شکل دی جاتی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری، عوامی مفادات، بحری محاصرے کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی واپسی کے لیے سفارتی اور سیاسی کوششیں جاری رکھے گا، اور آئندہ مفاہمت کے نفاذ کے بعد ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی بھی عمل میں آئے گی۔
