سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر ری ویلیوایشن پورٹل دوبارہ کھولا جاتا ہے تو اس کے اثرات تقریباً 17 لاکھ طلبہ پر پڑ سکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق اس مرحلے پر جانچ اور نتائج سے متعلق جاری عمل میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے نہ صرف نتائج کے بعد کی کارروائیاں متاثر ہوں گی بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کا پورا نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اب تک ایک لاکھ 67 ہزار طلبہ ری ویلیوایشن کے لیے درخواست دے چکے ہیں اور مزید درخواستیں قبول کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر پورٹل دوبارہ کھولا گیا تو پہلے ہی درخواست دینے والے طلبہ کی کونسلنگ اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔
