کاکروچ جنتا پارٹی کا ملک بھر میں احتجاج۔14 جون کو حیدرآباد میں بھی دھرنا

نئی دہلی: ملک میں نیٹ سمیت مختلف سرکاری ملازمتوں اور داخلہ امتحانات میں مسلسل سامنے آنے والے پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں نے احتجاجی تحریک شروع کر دی ہے۔

 

اس سلسلے میں نوجوانوں کی قیادت میں قائم کاکروچ جنتا پارٹی نے ملک گیر پُرامن احتجاجی مہم کو مزید تیز کر دیا ہے۔ پارٹی کا مطالبہ ہے کہ تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں اور ان ناکامیوں کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

 

اسی مقصد کے تحت پارٹی نے ملک کے مختلف بڑے شہروں میں احتجاجی پروگراموں کا ایک تفصیلی شیڈول جاری کیا ہے۔ اس ملک گیر تحریک کا آغاز مہاراشٹر کے تعلیمی مرکز پونےسے کیا گیا جہاں ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی کے کیمپس میں واقع ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے بڑی تعداد میں طلبہ اور نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

 

سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں منعقدہ اس اجتماع میں معروف ماحولیاتی اور سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی شرکت کی اور طلبہ کی جدوجہد کی حمایت کا اعلان کیا۔اسی موقع پر ایک اہم “ایجوکیشن مینی فیسٹو” بھی جاری کیا گیا جس میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کی روک تھام نتائج کے بروقت اعلان تقرریوں میں شفافیت اور امتحانی بورڈز کی جوابدہی جیسے نکات شامل کیے گئے ہیں۔

 

پونے سے شروع ہونے والی یہ احتجاجی مہم اب ملک کی دیگر ریاستوں تک پھیل رہی ہے۔ شیڈول کے مطابق 14 جون کو حیدرآباد میں “چلو دھرنا چوک” پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ یہ پُرامن احتجاج اندرا پارک کے قریب واقع دھرنا چوک میں صبح 10 بجے شروع ہوگا۔اسی روز بنگلورو میں بھی مظاہرے کیے جائیں گے

 

جبکہ 12 جون کو لکھنؤ 13 جون کو امرتسر 15 جون کو جے پورمیں طلبہ اور نوجوان احتجاجی ریلیوں میں حصہ لیں گے۔ملک گیر احتجاجی سلسلے کا پہلا مرحلہ 20 جون کو دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر میں ایک بڑے اختتامی جلسے اور ریلی کے ساتھ مکمل ہوگا۔

 

پارٹی نے ملک بھر کے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اس پُرامن جدوجہد میں شریک ہوں اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے آواز بلند کریں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *