
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رائٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز میں ایران کے خلاف ایک قرارداد منظور کرانے کے لیے رکن ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان جوہری تنصیبات اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرے جو حالیہ حملوں کے دوران متاثر ہوئے تھے۔
رائٹرز کے مشاہدہ کردہ مسودے کے مطابق یہ قرارداد اس ہفتے ہونے والے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس سے قبل پیش کی گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایران ماضی میں بھی اپنے خلاف منظور کی جانے والی قراردادوں پر شدید اعتراض کرتا رہا ہے۔
اگرچہ آئی اے ای اے متعدد مواقع پر ایران کے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کی تصدیق کر چکی ہے، تاہم مجوزہ قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیر نگرانی جوہری مواد اور تنصیبات کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرے اور ایجنسی کو ضروری معائنوں اور تصدیقی عمل کے لیے درکار رسائی دے۔
قبل ازیں سفارتی ذرائع نے بھی رائٹرز کو بتایا تھا کہ امریکہ بورڈ آف گورنرز کے اجلاس سے پہلے ایران کے خلاف ایک نئی قرارداد تیار کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور ممکنہ سیاسی مفاہمت کے حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں۔
