
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حزب اللہ کے فائبر آپٹک ڈرونز نے اسرائیلی دفاعی نظام کی کمزوریوں کو آشکار کر دیا ہے اور ان حملوں نے اسرائیلی فوج کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں حزب اللہ نے ان ڈرونز کے ذریعے اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں، ٹینکوں اور فضائی دفاعی نظاموں کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ایسے حملے تقریبا روزانہ کا معمول بن چکے ہیں اور ان کے نتیجے میں متعدد فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ان حملوں کے اثرات صرف عسکری نقصانات تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے اسرائیل کی تکنیکی برتری کے تاثر کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے، جس کے باعث جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی فوجیوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی حکام نے 2024 کے آغاز میں ہی خبردار کیا تھا کہ حزب اللہ فائبر آپٹک ڈرونز استعمال کر سکتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی روس۔یوکرین جنگ کے دوران نمایاں ہوئی تھی۔ ان ڈرونز کی خاصیت یہ ہے کہ یہ روایتی ریڈیو سگنلز کے بجائے فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے کنٹرول ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے الیکٹرانک جیمنگ کے روایتی طریقے ان پر مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔
اخبار کے مطابق ان انتباہات کے باوجود اسرائیلی فوج اس نئے خطرے کا مؤثر جواب تیار کرنے میں ناکام رہی۔ یہاں تک کہ اپریل میں روزانہ حملوں کے آغاز کے بعد بھی ایسے سادہ حفاظتی اقدامات وسیع پیمانے پر اختیار نہیں کیے گئے جو یوکرین میں استعمال کیے جا چکے تھے۔
رپورٹ میں ایک ریٹائرڈ اسرائیلی جنرل کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سکیورٹی ادارے اس خطرے سے آگاہ تھے، لیکن اسے مطلوبہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، جس کے نتیجے میں حزب اللہ کو میدان میں نمایاں برتری حاصل ہوئی۔
