
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو موصول ہونے والی نئی ویڈیوز سے انکشاف ہوا ہے کہ طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford میں لگنے والی آگ امریکی بحریہ کے سرکاری بیانات کے برعکس کہیں زیادہ شدید اور تباہ کن تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ نے مارچ میں ایک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ جہاز میں لگنے والی آگ کو فوری طور پر قابو میں لے لیا گیا تھا اور صرف دو ملاح معمولی زخمی ہوئے تھے۔ تاہم سی این این کی جانب سے حاصل کی گئی نئی ویڈیوز ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔
جاری شدہ تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آگ کے شعلے جہاز کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھے اور اس سے ساز و سامان کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق جہاز کی صورتحال اس بیان سے کہیں زیادہ سنگین تھی جس میں اسے مکمل طور پر آپریشنل اور ہر طرح کی ذمہ داری کے لیے تیار قرار دیا گیا تھا۔
سی این این نے باخبر ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا کہ حادثے کے دوران جہاز کا خودکار آگ بجھانے والا نظام مکمل طور پر ناکام ہو گیا تھا۔ اسی تکنیکی خرابی کے باعث آگ کی شدت میں اضافہ ہوا اور اسے قابو میں کرنا مزید دشوار ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق نئی ویڈیوز نے اس واقعے کے بارے میں امریکی بحریہ کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور واقعے کی اصل نوعیت کے حوالے سے مزید وضاحت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
