
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ آج اسلامی مزاحمت اپنے قیام کے بعد سے صہیونی جارحیت کے خلاف شدید ترین معرکے کا سامنا کر رہی ہے۔ اسرائیلی جارحیت کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے اور یہ غزہ و لبنان میں بچوں، خواتین اور مردوں کا قتل عام کرنے، گھروں اور کھیتوں کو تباہ کرنے اور عوام کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے میں مصروف ہے۔
مشہد میں ہونے والی غدیر اور مقاومت کانفرنس میں اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 80 ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے جبکہ لبنان میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 10 ہزار سے زیادہ افراد شہادت پاچکے ہیں۔
انہوں نے شہید سید حسن نصر اللہ، سید ہاشم صفی الدین اور دیگر مزاحمتی کمانڈروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نبوتِ محمدیؐ، ولایتِ علویؑ، ائمہ اہل بیتؑ کی محبت اور امام زمانہؑ کے انتظار کی برکت سے مزاحمت اپنے موقف پر قائم رہی۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ مزاحمت کے جوانوں نے جدید ہتھیاروں سے لیس صہیونی فوج کے 90 ہزار سے زائد فوجیوں اور افسروں کا مقابلہ کیا، جبکہ امریکہ روزانہ فضائی راستے سے اسرائیل کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ 1982ء میں اسرائیلی حملے کے بعد، جب صہیونی فوج بیروت تک پہنچ گئی تھی، مومنین کے ایک گروہ نے امام خمینیؒ کی بیعت کی اور اسی بنیاد پر حزب اللہ لبنان کی تشکیل عمل میں آئی۔ امام خمینی نے فلسطین کی حمایت، اسرائیل کے مقابلے اور اسلامی وحدت و جہاد کے راستے کو حزب اللہ کی بنیادی ترجیحات قرار دیا۔
سیکریٹری جنرل حزب اللہ نے مزید کہا کہ امام خامنہ ای نے صدرِ جمہوریہ کے دور سے ہی حزب اللہ کے امور کی سرپرستی کی اور منصبِ قیادت سنبھالنے کے بعد بھی خصوصی توجہ کے ساتھ مزاحمت کی ضروریات پوری کیں، رہنمائی فراہم کی اور جہادی سرگرمیوں کی حمایت جاری رکھی۔
انہوں نے غدیر کو حقانیت کے راستے کو مستحکم کرنے، امید کو زندہ رکھنے اور ہدایت کے معیار کو واضح کرنے والا عظیم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ولایت کا سلسلہ رسول اکرمؐ سے امام علیؑ اور ائمہ اہل بیتؑ کے ذریعے امت تک پہنچا اور اسی فکر نے حزب اللہ جیسی مزاحمتی تحریک کو جنم دیا۔
