
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے لبنان کی حالیہ صورتحال پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ خطے میں جاری جنگ کے خاتمے اور کسی بھی جنگ بندی کی قبولیت کے لیے پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ دشمن تمام محاذوں، خصوصاً لبنان میں اپنی جارحانہ کارروائیاں فوری طور پر روک دے۔
بیان میں لبنان کو شرف، عزت اور استقامت کی سرزمین قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ملک اب بھی صہیونی حکومت کے وحشیانہ حملوں کی زد میں ہے۔ بین الاقوامی اداروں، مختلف ممالک اور دنیا بھر کے عوام کی جانب سے مذمت اور احتجاج کے باوجود تل ابیب کے حکمرانوں کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جبکہ امریکہ کی جانب سے امن کے نام پر مداخلت نے جرائم اور نسل کشی میں مزید اضافہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ صہیونی فوج اپنی عسکری ناکامیوں کا بدلہ نہتے شہریوں کے قتل عام، گھروں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی تباہی کی صورت میں لے رہی ہے۔ امریکہ اور بعض یورپی ممالک کی مسلسل حمایت کے باوجود اسرائیل اپنے زیر قبضہ علاقوں کے عوام کے دل جیتنے میں ناکام رہا ہے اور اس کی پالیسی تباہ شدہ سرزمینوں پر حکمرانی تک محدود ہے۔
سپاہ پاسداران نے زور دے کر کہا کہ خطے کی اقوام لبنان کو تنہا نہیں چھوڑیں گی اور لبنانی عوام بھی ایسے کسی معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جس کے ذریعے اسرائیل جنگ میں حاصل نہ ہونے والے اہداف کو سیاسی دباؤ اور امریکی حمایت کے ذریعے حاصل کرنا چاہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دشمن کو فوری طور پر لبنان کے عوام پر حملے بند کرنے چاہییں، مقبوضہ لبنانی علاقوں کو خالی کرکے بین الاقوامی سرحدوں کے پیچھے واپس جانا چاہیے اور لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو تسلیم کرنا چاہیے۔
