ریاست، عوام اور مزاحمت کا اتحاد ہی صیہونی جارحیت کا واحد علاج ہے، حزب اللہ کا لبنانی حکومت کو پیغام

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی خبر رساں ویب سائٹ العہد نے اپنے ایک تجزیاتی مضمون میں شیخ نعیم قاسم کے حالیہ خطاب کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ نے موجودہ علاقائی حالات کے تناظر میں اپنی حکمت عملی کو تین بنیادی ستونوں پر استوار کیا ہے، جو لبنان میں موجودہ اور آئندہ مرحلے کی سیاسی و عسکری صورتحال کا تعین کریں گے۔

مزاحمت کا تسلسل

رپورٹ کے مطابق شیخ نعیم قاسم نے جنوبی لبنان کی سن 2000 میں آزادی کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت لبنان کے دفاع کا ایک بنیادی ڈھانچہ ہے اور یہ کسی ایک جماعت یا محدود حلقے کی کوشش نہیں بلکہ حزب اللہ، تحریک امل، لبنانی قومی جماعتوں اور فلسطینی گروہوں کی مشترکہ قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمت اسرائیلی قبضے اور مسلسل فوجی جارحیت کو مسترد کرتی ہے اور دفاعی کارروائیوں کو ایک جائز اور مستقل حق سمجھتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ حزب اللہ اپنی دفاعی حکمت عملی کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف عسکری عوامل پر انحصار کر رہی ہے، جن میں اسرائیلی فوجی نقصانات، فوجی گاڑیوں کی تباہی، متعدد عسکری کارروائیوں اور ڈرون صلاحیتوں کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

غیر متزلزل قومی اور انسانی مطالبات

شیخ نعیم قاسم نے زور دیا کہ مستقبل میں کسی بھی سیاسی مفاہمت یا قومی حکمت عملی کی بنیاد پانچ نکات پر ہونی چاہیے:

لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ

اسرائیلی جیلوں میں قید لبنانیوں کی رہائی

دریائے لیتانی کے جنوب میں لبنانی فوج کی تعیناتی

بے گھر افراد کی محفوظ واپسی

اسرائیلی حملوں سے تباہ ہونے والے دیہات اور علاقوں کی تعمیر نو

حکومتی کارکردگی اور قومی خودمختاری

رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے لبنانی حکومت اور سیاسی قیادت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بعض حلقے امریکی دباؤ کے تحت قومی خودمختاری کے بجائے بیرونی سرپرستی کو قبول کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے “اسلحے کی اجارہ داری” کے نعرے کو موجودہ حالات میں غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب لبنان کو وجودی خطرات کا سامنا ہے تو اس طرح کے مطالبات دراصل لبنان کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی جارحیت کے لیے راہ ہموار کرنے کے مترادف ہیں۔

شیخ نعیم قاسم نے امریکہ کی جانب سے حزب اللہ، تحریک امل اور بعض لبنانی عہدیداروں پر پابندیوں کے معاملے پر حکومتی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

سماجی اور معاشی تحفظ

انہوں نے اپنے خطاب میں ان اقدامات پر بھی تشویش ظاہر کی جو ان کے بقول عوامی خدمت انجام دینے والے مالیاتی، طبی اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے اداروں پر پابندیاں دراصل غریب طبقات کی معاشی زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں اور یہ لبنان پر مسلط معاشی دباؤ کا حصہ ہیں۔

“قومی نجات” کا روڈ میپ

رپورٹ کے مطابق شیخ نعیم قاسم نے لبنان کے لیے ایک “قومی نجات” کا روڈ میپ بھی پیش کیا، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

مزاحمت کو مجرمانہ عمل قرار دینے کی پالیسی کا خاتمہ

لبنان کے آئین اور قومی ہم آہنگی کے اصولوں کی پابندی

اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی مخالفت اور بالواسطہ مذاکرات کو ترجیح

سیاسی و سفارتی مذاکرات میں مزاحمت کی دفاعی قوت کو قومی طاقت کے عنصر کے طور پر استعمال کرنا

کسی بھی قومی دفاعی حکمت عملی سے قبل اسرائیلی حملوں کا خاتمہ اور مقبوضہ علاقوں کی آزادی

فلسطین مزاحمت کا مرکزی محور

مضمون میں کہا گیا کہ شیخ نعیم قاسم نے فلسطین کو امت مسلمہ کا مستقل اور بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے غزہ کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے لبنان اور فلسطین کے شہداء کے خون کو ایک مشترکہ جدوجہد کی علامت قرار دیا اور غزہ کے محاصرے، انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹوں اور اسرائیلی کارروائیوں پر بین الاقوامی اور عرب دنیا کی خاموشی کی مذمت کی۔

شیخ نعیم قاسم نے آخر میں ایران اور رہبر انقلاب کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران اور مزاحمتی قوتیں موجودہ مرحلے سے زیادہ مضبوط سیاسی اور علاقائی حیثیت کے ساتھ نکلیں گی، جو ان کے بقول مزاحمت کے راستے کی کامیابی کا ثبوت ہوگا۔ 

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *