
مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: گزشتہ روز صہیونی آلہ کار سیٹلائٹ چینل ایران انٹرنیشنل نے ایک نام نہاد ہنگامی خبر میں ایک ذریعے کے حوالے سے دعوی کیا کہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اپنا استعفی قائد انقلاب کے دفتر کو ارسال کر دیا ہے۔ یہ افواہ چند ہی منٹوں میں صدارتی ادارے کے شعبۂ اطلاعات اور حکومتی ترجمان کی جانب سے مسترد کر دی گئی۔ یہ واقعہ ایران کے معاشرتی اور نفسیاتی استحکام کے خلاف جاری ادراکی جنگ اور نفسیاتی کارروائیوں کی ایک اور مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آج کی دنیا میں خبریں صرف حقیقی واقعات کا عکس نہیں ہوتیں بلکہ بعض اوقات انہیں اس انداز میں تیار کیا جاتا ہے کہ وہ معاشرے کے ذہنی اور نفسیاتی توازن کو متاثر کر سکیں۔ اس افواہ کے پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس قسم کی خبروں کو سمجھنے کے لیے ان کی ساخت اور وقت بندی کا تجزیہ ضروری ہے۔
افواہ سازی کی انجینئرنگ؛ جتنی مختصر اور مبہم، اتنی زیادہ مؤثر
سب سے پہلے خبر کی ساخت پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ یہ افواہ ایک مبہم اصطلاح “باخبر ذریعے” یا گمنام ذریعے پر مبنی تھی۔ پیشہ ور صحافت میں گمنام ذرائع کا حوالہ ایک اخلاقی استثنا سمجھا جاتا ہے جو عموماً معلومات فراہم کرنے والے کی جان و سلامتی کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم پروپیگنڈا پر مبنی ذرائع ابلاغ اور بالخصوص دشمن کے آلہ کار بعض میڈیا اداروں میں یہی طریقۂ کار قانونی ذمہ داری سے بچنے کا ایک اہم ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس طریقے سے میڈیا ایک طرف خود کو طاقت کے پوشیدہ مراکز سے باخبر ظاہر کرتا ہے جبکہ دوسری جانب خبر کی آزادانہ تصدیق کا راستہ بھی بند کر دیتا ہے۔ مزید یہ کہ مذکورہ خبر جان بوجھ کر مختصر اور قطعی انداز میں لکھی گئی تھی۔ افواہ سازی کے اصولوں کے مطابق جتنا متن مختصر اور مبہم ہوگا، اتنا ہی زیادہ امکان ہوگا کہ مخاطب اپنی سوچ اور خدشات کی بنیاد پر اس میں تفصیلات کا اضافہ کرے اور غیر ارادی طور پر اس جھوٹی خبر کی ترسیل کا حصہ بن جائے۔
حقیقت کا سہارا لے کر جھوٹ پھیلانا؛ میڈیا پروپیگنڈے کی پرانی تکنیک
اس افواہ کا ایک اور فنی اور پوشیدہ پہلو “آدھی حقیقت پر مبنی جھوٹ پھیلانے” کی تکنیک ہے۔ سب سے خطرناک جعلی خبریں وہ ہوتی ہیں جو کسی حقیقی واقعے یا حقیقت کے ایک حصے کو بنیاد بنا کر تیار کی جاتی ہیں۔ اس افواہ کے منصوبہ سازوں نے ملک کے انتظامی ڈھانچے میں انٹرنیٹ یا اقتصادی بلوں جیسے معاملات پر موجود فطری اور ماہرین کی سطح کے اختلافِ رائے کو خام مواد کے طور پر استعمال کیا، پھر اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور آخر میں اپنے من گھڑت نتیجے یعنی استعفے کے دعوے کو اس سے جوڑ دیا۔ اس طریقے سے عام مخاطب کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعہ گزشتہ دنوں کے حالات کا ایک منطقی تسلسل ہے، چنانچہ وہ اس جھوٹ کو زیادہ آسانی سے قبول کر لیتا ہے۔
یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کوئی میڈیا ادارہ ایسی خبر کیوں نشر کرتا ہے جس کے بارے میں اسے معلوم ہو کہ چند گھنٹوں بعد حکومت اور سرکاری ترجمان کی جانب سے اس کی تردید کر دی جائے گی اور اس کی ساکھ متاثر ہوگی؟ اس کا جواب نفسیاتی جنگ کے اصولوں میں پوشیدہ ہے، جہاں چند گھنٹوں تک زندہ رہنے والی افواہیں بھی اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہیں۔
اس کا پہلا مقصد نفسیات میں “اینکرنگ ایفیکٹ” یعنی جو پہلی اطلاع انسان کے ذہن میں داخل ہوتی ہے، وہ ایک ذہنی لنگر کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے اور بعد میں آنے والی تردیدیں بھی اس کے اثرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کر پاتیں، جس کے نتیجے میں ذہن میں شک و شبہے کا ایک نشان باقی رہ جاتا ہے۔
دوسرا مقصد عوامی رائے کی حساسیت کا جائزہ لینا ہوتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ معاشرہ کس حد تک انتشار یا بے چینی کا شکار ہو سکتا ہے اور داخلی ذرائع ابلاغ اس قسم کی خبروں پر کتنی تیزی سے ردِعمل ظاہر کرتے ہیں۔
تیسرا مقصد عوامی اور سیاسی حلقوں کے ایجنڈے کو متعین کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح میڈیا یہ طے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ معاشرے اور خواص کے درمیان کس موضوع پر بحث ہوگی، یہاں تک کہ کئی دنوں تک دیگر اہم مسائل کے بجائے ساری توجہ اس بات کو ثابت کرنے پر مرکوز رہتی ہے کہ استعفے کی خبر درست نہیں تھی یا کم از کم سیاسی نظام کے اندر کسی غیر معمولی اختلاف کا وجود نہیں تھا۔
خبر کی وقت بندی؛ پرامید معاشرے پر نفسیاتی حملہ
اس خبر کی اشاعت کا وقت بھی انتہائی سوچ سمجھ کر منتخب کیا گیا تھا۔ یہ افواہ ایسے موقع پر پھیلائی گئی جب بین الاقوامی انٹرنیٹ پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور بعض ساختی اصلاحات کے حوالے سے مثبت اشارے سامنے آرہے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت مخالف میڈیا کا بیانیہ عموما مایوسی، تعطل اور بند گلی کے تصور پر استوار ہوتا ہے، کیونکہ اگر عوام یہ محسوس کرنے لگیں کہ مسائل کو منطقی اور قانونی طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے تو ایسے ذرائع ابلاغ کی کشش اور اثر پذیری کم ہو جاتی ہے۔
اس افواہ کا بنیادی مقصد امید کو نشانہ بنانا تھا تاکہ معاشرے میں یہ تاثر پیدا کیا جا سکے کہ حالات میں بہتری لانے کی ہر کوشش بالآخر ناکامی سے دوچار ہوتی ہے اور اس راستے پر چلنے والے افراد منظر سے ہٹا دیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب حکومتی اداروں کی جانب سے اس خبر کی فوری تردید ایک ضروری اقدام تھا جو بروقت انجام دیا گیا۔ تاہم اس نوعیت کے واقعات، جو ماضی میں بھی متعدد بار پیش آ چکے ہیں، ملکی میڈیا نظام کی بعض کمزوریوں کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ جب داخلی ذرائع ابلاغ سستی یا ضرورت سے زیادہ احتیاط پسندی کے باعث بروقت اور مستند معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو بیرونی میڈیا اسی خلا کو اپنے مخصوص بیانیوں اور بعض اوقات تحریف شدہ معلومات کے ذریعے پُر کر دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نفسیاتی اور اطلاعاتی حملوں کے مقابلے کے لیے ایک مؤثر دفاعی نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے خبر کے ذرائع کو داخلی ذرائع ابلاغ کی طرف واپس لانا، ذمہ دار اور رجسٹرڈ ملکی میڈیا کے لیے زیادہ گنجائش پیدا کرنا اور عوام کے درمیان میڈیا خواندگی کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
گزشتہ رات کی افواہ نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ جھوٹ اور گمراہ کن معلومات کا راستہ محض پابندیوں سے نہیں روکا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ملک کے اندر شفاف، تیز رفتار اور قابلِ اعتماد اطلاعاتی نظام قائم کرنا ضروری ہے تاکہ عوام مستند معلومات کے حصول کے لیے انہی ذرائع پر اعتماد اور رجوع کرنے کے عادی بن سکیں۔
