
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مغربی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی فوجی کارروائیوں کے اخراجات جنگ کے 71 ویں روز 77 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اس دوران واشنگٹن کو افرادی قوت، فوجی ساز و سامان، خطے میں تعینات بحری جہازوں اور دیگر شعبوں میں بھاری نقصانات اٹھانا پڑے۔
رپورٹ کے مطابق ایران وار کاسٹ ٹریکر نامی ویب سائٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی جنگی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور اب 77 ارب ڈالر کی حد عبور کر چکے ہیں۔
یہ ویب سائٹ اخراجات کے اعداد و شمار کو لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ کرتی ہے اور اس میں امریکی فوجی اہلکاروں، خطے میں موجود جنگی جہازوں اور دیگر متعلقہ اخراجات کو شامل کیا جاتا ہے۔
اخراجات کا تخمینہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی اس رپورٹ کی بنیاد پر لگایا گیا ہے جو کانگریس کو پیش کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جنگ کے ابتدائی تین دنوں میں امریکہ کو 11.3 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑے، جبکہ بعد کے دنوں میں روزانہ اخراجات ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
اپریل کے آخر میں امریکی نائب وزیر دفاع اور مالیاتی نگران جولز ہرسٹ نے ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں دعوی کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ پر امریکہ کے اخراجات تقریباً 25 ارب ڈالر ہیں۔ تاہم امریکی میڈیا نے اگلے ہی روز باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس رقم میں تباہ یا متاثر ہونے والی فوجی تنصیبات کی بحالی اور نقصان زدہ ساز و سامان کی تبدیلی کے اخراجات شامل نہیں۔ ذرائع کے مطابق حقیقی اخراجات اس رقم سے تقریباً دوگنا ہیں۔
جنگی نقصانات
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے دوران امریکہ نے اپنے درجنوں طیارے کھوئے، جن میں MQ-9 Reaper ڈرون، F-15E جنگی طیارے، آواکس طیارے، KC-135 فضائی ایندھن بردار طیارے، ایک A-10 حملہ آور طیارہ اور دو MC-130J کارگو طیارے شامل ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق ان فوجی نظاموں کی دوبارہ تیاری اور خریداری پر اربوں ڈالر لاگت آئے گی۔ امریکہ نے متعدد تھاڈ ریڈار سسٹمز بھی کھو دیے یا انہیں نقصان پہنچا، جن میں سے ہر ایک کی مالیت سیکڑوں ملین ڈالر ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے روزانہ آپریشنل اخراجات تقریباً 4.9 ملین ڈالر ہیں، جبکہ ایک ڈسٹرائر جنگی جہاز پر روزانہ تقریباً 6 لاکھ ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک طیارہ بردار جہاز کے فضائی شعبے کے روزانہ اخراجات 3.8 ملین ڈالر تک پہنچتے ہیں۔
بلومبرگ اکنامکس میں دفاعی امور کی سربراہ بیکا واسر کے تجزیے کے مطابق ایران کے خلاف صرف 39 دن کی جنگ کے دوران دو طیارہ بردار بحری جہازوں اور 16 ڈسٹرائرز پر تقریباً ایک ارب ڈالر خرچ ہوئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران نے خطے بھر میں اہداف پر 1850 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے، جنہیں روکنے کے لیے تقریباً 4000 انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے گئے۔
