جیت کا فرق حذف کیے گئے ووٹوں سے کم ہونے پر نئی عرضی دائر کی جا سکتی ہے: سپریم کورٹ

انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان مجموعی ووٹوں کا فرق تقریباً 32 لاکھ تھا، جبکہ 35 لاکھ ایسے افراد ووٹ نہیں ڈال سکے جن کی اپیلیں زیر التوا رہیں۔ کلیان بنرجی نے جسٹس جوئے مالیا باگچی کے سابقہ ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پہلے کہا تھا کہ اگر جیت کا فرق حذف کیے گئے ووٹوں سے کم ہوا تو عدالت مداخلت کرے گی۔ انہوں نے معاملے میں عدالتی جانچ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اس پر بنچ نے کلیان بنرجی سے کہا کہ وہ تمام تفصیلات کے ساتھ عبوری عرضی دائر کریں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اگر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے کا اثر انتخابی نتائج پر پڑا ہے تو اس کے لیے مناسب عرضی دائر کرنا ضروری ہوگا۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال اس کی توجہ اس بات پر ہے کہ اپیلیٹ ٹریبونل میں زیر التوا معاملات کا جلد از جلد تصفیہ ہو۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *