چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے پیر کو اپنے احکامات میں کہا کہ ضمانت کے مقدمات کو ہر ہفتے یا کم از کم دو ہفتے میں ایک بار ضرور سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جائے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ تمام ہائی کورٹ خودکار لسٹنگ سسٹم تیار کریں تاکہ کسی بھی مقدمے کی سماعت صرف تاریخ پر تاریخ تک محدود نہ رہ جائے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ضمانت عرضی کی پہلی سماعت سے پہلے ہی ریاستی حکومت یا جانچ ایجنسی کو اپنی اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنی ہوگی۔ عدالت کے مطابق اس سے مقدمے کی موجودہ صورت حال سمجھنے میں آسانی ہوگی اور سماعت میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے گا۔ ساتھ ہی عرضی گزار کے وکیل کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ضمانت عرضی کی نقل پہلے ہی ایڈوکیٹ جنرل یا متعلقہ جانچ ایجنسی کو فراہم کرے۔
