
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک مسلم سرکاری اسکول ٹیچر کے خلاف درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جو انہوں نے واٹس ایپ پر ایک اردو نظم شیئر کرنے کے معاملے میں درج کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ بغیر کسی اشتعال انگیز تبصرے یا نفرت پھیلانے کی نیت کے کسی نظم کو شیئر کرنا فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے زمرے میں نہیں آتا۔
جسٹس بی پی شرما نے قرار دیا کہ ٹیچر فیضان انصاری کی جانب سے شاعر شعیب کینی کی نظم ’’بے حیا‘‘ شیئر کرنا عوامی بدامنی یا نفرت انگیز تقریر کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ نظم انسانی حقوق اور پاکستان سمیت دیگر مقامات پر خواتین کے خلاف تشدد جیسے موضوعات پر مبنی تھی اور اس کا کسی مذہب یا کمیونٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ بغیر کسی اضافی تبصرے یا اشتعال انگیزی کے محض کسی شاعری کو شیئر کرنا تعزیراتِ ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت جرم نہیں بن سکتا۔ عدالت کے مطابق مقدمہ میں اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ پوسٹ سے کسی قسم کی دشمنی یا امنِ عامہ کو نقصان پہنچا ہو۔
یہ مقدمہ 22 جولائی 2025 کو اس وقت درج کیا گیا جب فیضان انصاری نے اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر مذکورہ نظم کی ویڈیو شیئر کی تھی۔ بعد ازاں پولیس نے انہیں طلب کیا، ان کا موبائل فون ضبط کیا اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ مواد نامناسب اور ایک استاد کے شایانِ شان نہیں تھا۔
عدالت نے مزید کہا کہ اظہارِ رائے سے متعلق جرائم محض اندازوں یا ذاتی رائے کی بنیاد پر قائم نہیں کیے جا سکتے بلکہ اس کے لیے واضح طور پر اشتعال انگیزی یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کا ثبوت ضروری ہے۔
ہائی کورٹ نے آخر میں ایف آئی آر سمیت تمام ضمنی کارروائیوں کو ختم کرتے ہوئے فیضان انصاری کو ریلیف دیا اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی کہ ضرورت پڑنے پر انہیں سکیورٹی فراہم کی جائے، جبکہ ضبط شدہ موبائل فون بھی واپس کرنے کا حکم دیا گیا۔
اس سے قبل بی جے پی کی حکمرانی والی ریاست مدھیہ پردیش میں اسی ٹیچر کو ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معطل کیا گیا تھا، جس میں وہ مبینہ طور پر وزیراعظم نریندر مودی کی ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے پر نقل کرتے نظر آئے تھے۔
