’240 بی جے پی اراکین پارلیمنٹ میں ہر چھٹا رکن پارلیمنٹ ووٹ چوری سے فتحیاب ہوا‘، راہل گاندھی کا تلخ تبصرہ

راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’جو ادارے اپنی جیب میں رکھتے ہیں، جو ووٹر لسٹس اور انتخابی عمل کو توڑ مروڑ دیتے ہیں، وہ خود ’ریموٹ کنٹرولڈ‘ ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div><div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>

i

user

google_preferred_badge

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ایک بار پھر بی جے پی پر ’ووٹ چوری‘ کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ مغربی بنگال اور آسام سمیت 5 ریاستوں کا انتخابی نتیجہ سامنے آنے کے بعد راہل گاندھی نے اپنے بیانات میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تازہ بیان انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کیا ہے، جس میں تلخ انداز اختیار کیا گیا ہے۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ووٹ چوری کے ذریعہ کبھی سیٹیں چرائی جاتی ہیں، تو کبھی پوری کی پوری حکومت پر ہی قبضہ کر لیا جاتا ہے۔ انھوں نے لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی کے ذریعہ حاصل 240 سیٹوں کو بھی ’ووٹ چوری‘ کا ہی نتیجہ قرار دیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’لوک سبھا کے 240 بی جے پی اراکین پارلیمنٹ میں سے موٹے طور پر ہر چھٹا رکن پارلیمنٹ ووٹ چوری سے جیتا ہے۔ پہچاننا مشکل نہیں ہے۔ کیا انھیں بی جے پی کی زبان میں ’گھس پیٹھیا‘ (درانداز) کہیں؟‘‘ انھوں نے ایس آئی آر کے ذریعہ ووٹر لسٹ میں ہو رہی تبدیلی اور انتخابی عمل کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اشاروں اشاروں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی تنقید کرتے ہوئے انھیں ’ریموٹ کنٹرولڈ‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’جو اداروں کو اپنی جیب میں رکھتے ہیں، جو ووٹر لسٹس اور انتخابی عمل کو توڑ مروڑ دیتے ہیں، وہ خود ’ریموٹ کنٹرولڈ‘ ہیں۔‘‘ یقیناً ان کا اشارہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف ہے۔ راہل گاندھی اکثر پی ایم مودی پر امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ میں رہنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ آپریشن سندور روکنے کا معاملہ ہو یا پھر ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ دونوں ہی امور پر کانگریس لیڈر امریکی صدر کے سامنے پی ایم مودی کو ’کمپرومائزڈ‘ بتاتے رہے ہیں۔

بہرحال، راہل گاندھی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ہریانہ کی بی جے پی حکومت کا بھی ذکر کیا ہے۔ انھوں نے تو اس حکومت کو مکمل طور پر ’درانداز حکومت‘ قرار دیا ہے۔ وہ سوالیہ انداز میں کہتے ہیں کہ ’’اور ہریانہ؟ وہاں تو پوری حکومت ہی ’گھس پیٹھیا‘ ہے۔‘‘ دراصل بی جے پی دوسری پارٹیوں کے لیڈران اور اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ ملا کر، یا کسی پارٹی کو توڑ کر کئی ریاستوں میں حکومت بنا چکی ہے۔ اسی لیے راہل گاندھی ایسے اراکین پارلیمنٹ یا حکومت کو ’گھس پیٹھیا‘ یعنی درانداز بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی والے غیر جانبدارانہ انتخاب کی طاقت نہیں رکھتے، کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ شکست ہی ہاتھ لگی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’انھیں اصلی ڈر سچائی کا ہے۔ کیونکہ غیر جانبدارانہ انتخاب ہو جائیں تو آج یہ 140 (لوک سبھا سیٹیں) کے پاس بھی نہیں جیت سکتے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *