
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ خطہ ایک نہایت خطرناک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ لبنان میں عملی طور پر کوئی جنگ بندی قائم نہیں بلکہ صہیونی حکومت امریکی حمایت اور ہدایات کے تحت لبنان پر حملہ آور ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی استقامت اور پایداری ہے جو لبنان، آئندہ نسلوں اور پورے خطے کے لیے عزت، آزادی اور خودمختاری کے ساتھ مستقبل کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ جارح قوتیں طاقت کے زور پر حق کو مٹانے، سرزمین پر قبضہ جمانے اور قوموں کا مستقبل تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ مزاحمت کا مقصد سرزمین کی آزادی ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ جب تک مقاومت موجود ہے، دشمن چاہے کتنا ہی جابر اور ظالم کیوں نہ ہو، اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ دشمن نے لبنان پر کھلی جارحیت کی ہے اور اس ملک کو اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے حقیقی ضمانتوں کی ضرورت ہے۔ صہیونی دشمن نے جنگ بندی کے نفاذ کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا بلکہ 10 ہزار سے زائد مرتبہ اس کی خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تل ابیب گریٹر اسرائیل کے خواب کی تعبیر میں مکمل ناکام رہا ہے اور یہ منصوبہ اس صورت میں بھی کامیاب نہیں ہوگا اگرچہ دنیا کے تمام شیاطین اسرائیل کے ساتھ مل جائیں۔ مقاومت نے شاندار اور حماسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جس نے دشمن کو حیران و پریشان کر دیا۔
انہوں نے لبنانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کسی سے یہ نہیں چاہتی کہ وہ مقاومت کے نظریات کو قبول کرے، بلکہ صرف یہ چاہتی ہے کہ اس حساس مرحلے میں کوئی شخص دشمن کے مفادات کے حق میں کردار ادا نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قومی اتحاد اور ملکی خودمختاری کو مضبوط کرے، اور حکومت کو چاہیے کہ فوج کو ملک کے دفاع کا واضح حکم دے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا میں کوئی ایسا ملک مل سکتا ہے جو اپنے دشمن کے ساتھ مل کر مزاحمت کو ختم کرنے اور ملک پر قبضہ کروانے کے لیے اتفاق کرے؟ ہمیں دشمن کے اہداف کا مقابلہ کرنا ہوگا اور داخلی اتحاد کے ذریعے اپنی سرزمین آزاد کرانی ہوگی۔ مزاحمت کا تسلسل اور داخلی ہم آہنگی ہی لبنان کو اس مشکل مرحلے سے نکال سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدے یا کسی بھی بین الاقوامی و علاقائی اقدام کو صہیونی دشمن پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ دنیا کو یہ جان لینا چاہیے کہ دشمن کے سامنے جھکنا مسئلے کا حل ہرگز نہیں ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ حزب اللہ اس سفارت کاری کی حامی ہے جو جارحیت روکنے اور معاہدوں کے نفاذ پر منتج ہو تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ براہ راست مذاکرات دراصل مفت رعایت دینے کے مترادف ہیں اور یہ نتن یاہو کی خدمت ہے کیونکہ وہ خود کو فاتح ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ مذاکرات امریکی صدر ٹرمپ کے لیے بھی فائدہ مند ہوں گے۔
