
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ کی جانب سے حالیہ دنوں میں فائبر آپٹک ڈرون طیاروں کے ذریعے حملوں کے بعد صہیونی دفاعی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
امریکی چینل نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے فائبر آپٹک ڈرونز کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور یہ خطرہ بدستور برقرار ہے۔
رپورٹ میں اسرائیلی ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ چار پروں والے فائبر آپٹک ڈرونز اسرائیل کے لیے ایک مہلک ہتھیار بن چکے ہیں کیونکہ انہیں تلاش کرنا اور روکنا انتہائی مشکل ہے۔
سی این این کے مطابق یہ ڈرونز اپنے آپریٹر کو ہدف کی نہایت درست تصویر فراہم کرتے ہیں اور اس دوران کوئی ایسا سگنل خارج نہیں کرتے جسے جام یا ٹریس کیا جاسکے۔ ان ڈرونز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی ریڈیو سگنلز کے بجائے فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے براہ راست آپریٹر سے منسلک ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ یہ فائبر آپٹک کیبل 15 کلومیٹر یا اس سے زیادہ فاصلے تک پھیل سکتی ہے، جس کے باعث آپریٹر محفوظ مقام پر رہتے ہوئے کارروائی کرسکتا ہے۔ ان ڈرونز کے خلاف مؤثر دفاع صرف جسمانی رکاوٹوں جیسے جال وغیرہ تک محدود ہے۔
حزب اللہ ہر ڈرون کو ایک دستی بم یا چھوٹے دھماکہ خیز مواد سے لیس کرتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ ایک انتہائی درست اور تقریباً ناقابلِ شناخت ہتھیار بن جاتا ہے، جو اسرائیلی افواج پر ٹارگٹڈ حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایک اسرائیلی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس ادارے ان ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے بہتر طریقے تلاش کر رہے ہیں، تاہم یہ خطرہ ابھی تک برقرار ہے۔
