
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صحافی اور معروف ٹی وی میزبان ٹاکر کارلسن نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے زیر اثر ہیں اور وہ نہ صرف جنگ شروع کرنے پر مجبور ہوئے بلکہ اسے ختم کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔
کارلسن نے کہا کہ ٹرمپ عملا نیتن یاہو کے ہاتھوں قیدی بن چکے ہیں، کیونکہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی اور پھر اس سے نکلنے میں ناکام رہے۔ یہ بات صرف اندازہ نہیں بلکہ حقیقت ہے جس کے آثار واضح طور پر سامنے آچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے جنگ کے دوران کئی بار جنگ بندی کی بات کی اور یہ بھی کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے دعوی کیا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے شرط رکھی تھی کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے نکلے، کیونکہ کسی آزاد ملک کی زمین پر قبضہ کرنے کو جنگ کا بہانہ نہیں بنایا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کی بات کے چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیل نے لبنان میں کھلے عام شہریوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں، جس سے دنیا کی توجہ اس جانب مبذول ہوگئی۔ اسرائیل نے یہ کارروائی اپنی سلامتی کے لیے نہیں کی بلکہ اس کا مقصد مذاکرات کو ناکام بنانا تھا تاکہ جنگ کا خاتمہ نہ ہوسکے۔
کارلسن نے مزید کہا کہ امریکہ اسرائیل پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ جیسا سیاست دان بھی نتن یاہو کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ٹرمپ خود کہہ چکے ہیں کہ وہ جنگ کا خاتمہ بات چیت کے ذریعے چاہتے ہیں، مگر اسرائیل نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا اور اس کے باوجود ٹرمپ نے نتن یاہو پر کوئی تنقید نہیں کی۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹرمپ مکمل طور پر نتن یاہو کے کنٹرول میں ہیں۔
