مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی چینل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے 40 روزہ جنگ کے دوران مشرق وسطی میں امریکہ کے تقریبا تمام 16 فوجی اڈوں اور تنصیبات پر حملے کیے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے کئی فوجی تنصیبات تقریبا ناقابل استعمال ہوگئی ہیں۔
سی این این نے ایک ماہر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کبھی اس جیسا منظر نہیں دیکھا۔
چینل نے بتایا کہ ایرانی حملوں کے بنیادی ہدف امریکہ کے جدید رادار سسٹمز، مواصلاتی نظام اور طیارے تھے۔ ان میں سے کئی مہنگے اور محدود تعداد میں ہیں، جنہیں دوبارہ حاصل کرنا مشکل ہے۔
امریکی ذرائع نے بھی تسلیم کیا کہ ایران نے حملوں کے لیے انتہائی مؤثر اور اہم مقامات کا انتخاب کیا۔ ایک امریکی کانگریس کے رکن کے معاون نے بتایا کہ راڈار سسٹمز فوج کے سب سے قیمتی اور محدود وسائل ہیں اور نقصان اٹھانے والے مراکز تقریباً تمام امریکی فوجی اڈوں پر محیط ہیں۔
سی این این کے مطابق، ایران کے خلاف یہ جنگ امریکہ کے لیے 40 سے 50 ارب ڈالر کے مالی نقصان کا سبب بنی، جبکہ پینٹاگون نے حال ہی میں اس نقصان کا تخمینہ 25 ارب ڈالر لگایا تھا۔
