حج عشقِ الٰہی کی معراج ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری، خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد
حیدرآباد، یکم مئی (پریس ریلیز):
خطیب و امام، مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اپنے فکرانگیز اور روح پرور خطاب میں حج کی روحانیت، محبتِ الٰہی اور نسبتِ ابراہیمی کو نہایت دلنشین، ادبی اور مؤثر انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حج محض ایک عبادت نہیں بلکہ عشقِ حقیقی کی معراج اور بندگی کی انتہا ہے۔ یہ وہ مقدس سفر ہے جس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس ازلی پکار پر ہے، جس نے انسانیت کو اللہ کے گھر کی طرف بلایا، اور آج بھی اہلِ ایمان کے دلوں سے بلند ہونے والی “لبیک” کی صدائیں اسی روحانی ربط اور والہانہ تعلق کی آئینہ دار ہیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کی آیت “یَأْتُوکَ رِجَالًا” اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ لوگ پیدل بھی اللہ کے گھر کی حاضری دیں گے، اور اسلامی تاریخ اس کے بے شمار درخشاں واقعات سے مزین ہے۔ احادیثِ مبارکہ کے مطابق پیدل حج کرنے والوں کے ہر قدم پر بے حساب اجر و ثواب رکھا گیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت اور بندوں پر اس کی بے پایاں رحمت کا مظہر ہے۔
مولانا نے سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مبارک طرزِ عمل کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک کئی مرتبہ پیدل حج ادا فرمایا، حالانکہ آپ کے لیے بہترین سواریوں کا انتظام موجود تھا۔ یہ عمل اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی، انکساری اور سچی محبت کو کس قدر عظمت حاصل ہے۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ اگرچہ نماز، روزہ اور زکوٰۃ جیسے دیگر ارکانِ اسلام بھی اللہ کی محبت کے مظاہر ہیں، تاہم حج کو ایک امتیازی شان حاصل ہے کہ اس میں بندہ اپنے گھر، لباس، آسائش اور دنیاوی وابستگیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے رب کی رضا کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ احرام کی پابندیاں انسان کو اپنی ذات سے بے نیاز کر کے مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں۔
مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ حج دراصل بندگی، محبت اور فنا فی اللہ کا عملی مظہر ہے، جہاں ایک عاشق اپنے محبوب کے در پر حاضر ہو کر اپنی عاجزی، وفاداری اور سپردگی کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے حاضرین کو تلقین کی کہ حج کے ظاہری اعمال کے ساتھ اس کے باطنی تقاضوں کو بھی سمجھا جائے اور اپنی زندگیوں میں اخلاص، محبت اور قربِ الٰہی کو فروغ دیا جائے۔
انہوں نے نہایت مؤثر انداز میں فرمایا کہ بیت اللہ کا طواف محض ایک ظاہری عمل نہیں، بلکہ یہ دل کی گہرائیوں میں موجزن محبت، انتظار اور شوقِ دیدار کا اظہار ہے۔ حاجی جب کعبۃ اللہ کے گرد گردش کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنے دل کو مرکزِ محبت کے گرد گھما رہا ہوتا ہے، جہاں ہر دھڑکن “لبیک” کی صدا میں ڈھل جاتی ہے۔
مولانا نے اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ اللہ تعالیٰ مکان و جہت سے پاک ہے، وہ کسی جگہ میں محدود نہیں، مگر بیت اللہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ جو اس کے در پر حاضر ہو جائے، اللہ تعالیٰ اسے ایسا قرب عطا فرماتا ہے گویا وہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہو۔ اسی لیے اہلِ دل فرماتے ہیں کہ “گھر” نہیں بلکہ “گھر والے” کی طرف متوجہ ہونا اصل مقصود ہے، کیونکہ حقیقی طلب دیدارِ الٰہی کی ہے، نہ کہ صرف ظاہری مناظر کی۔
انہوں نے کہا کہ حج کا ایک اہم درس یہ بھی ہے کہ انسان اپنے باطن کے دشمن، یعنی شیطان کو پہچانے اور اس کے وسوسوں کا مقابلہ کرے۔ رمیِ جمرات محض کنکریاں مارنے کا عمل نہیں، بلکہ یہ اس عہد کی تجدید ہے کہ ہم ہر اس رکاوٹ کو ٹھکرا دیں گے جو ہمیں اللہ کی محبت سے دور کرے۔
اہلِ تصوف کے حوالے سے انہوں نے فرمایا کہ حج کو “باطن کی حاضری” قرار دیا گیا ہے۔ حضرت رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ علیہا کا واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ ہر قدم پر شکرانے کے نوافل ادا کرتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچیں، اور صوفیاء کے مطابق کعبہ کا ان کے استقبال کے لیے “آگے بڑھنا” دراصل انواراتِ الٰہی اور رحمتوں کے خصوصی فیضان کی علامت تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ کعبہ کی اینٹیں اور دیواریں اپنی جگہ محترم ہیں، مگر اصل قبلہ وہ مقام ہے جہاں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ اگر ظاہری ساخت بدل بھی جائے تو بھی نسبت زمین سے نہیں بلکہ رب کی تجلی سے قائم رہتی ہے۔
مولانا نے کہا کہ ہر شخص حقیقتِ کعبہ کو نہیں دیکھ سکتا؛ کچھ لوگ صرف عمارت تک محدود رہتے ہیں، جبکہ اہلِ دل انوارات میں محو ہو جاتے ہیں۔ مسجد میں داخلے کی دعا “اللّٰہم افتح لی ابواب رحمتک” اسی حقیقت کی ترجمان ہے کہ اصل کامیابی رحمت کے دروازے کھلنے میں ہے۔ حج بھی ایسا ہی سفر ہے—بہت سے لوگ جاتے ہیں، مگر ہر ایک پر اس کے اسرار و معارف منکشف نہیں ہوتے۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ جو بندہ عاجزی، شکر اور سچی محبت کے ساتھ قدم بڑھاتا ہے، اس کے استقبال کے لیے رحمتیں خود آگے بڑھتی ہیں۔ یہی وہ راز ہے جو حج کو ایک عام سفر سے ایک عاشقانہ اور روحانی سفر میں تبدیل کر دیتا ہے۔
آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو حج کی سعادت نصیب فرمائے اور اس عظیم عبادت کی حقیقی روح کو سمجھنے، اپنانے اور اپنی زندگیوں میں اس کے اثرات کو نمایاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
