کھڑگے نے مزید کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور حکومت نے تقریباً 30 لاکھ سرکاری خالی آسامیوں کو پُر نہیں کیا۔ ان کے مطابق عوامی شعبے کے اداروں کی نجکاری سے روزگار کے مواقع ختم ہو گئے ہیں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منریگا کو نہ صرف بحال کیا جائے بلکہ شہری علاقوں تک اس کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ اس کے علاوہ قومی کم از کم اجرت 400 روپے یومیہ مقرر کی جائے، صحت کو بنیادی حق بنایا جائے اور مزدوروں کو 25 لاکھ روپے تک کی صحت سہولت فراہم کی جائے۔ ساتھ ہی غیر منظم شعبے کے مزدوروں کے لیے زندگی اور حادثاتی بیمہ کو بھی یقینی بنایا جائے۔
کانگریس نے زور دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ ٹھیکہ داری نظام کو محدود کرے اور ایسی پالیسی اپنائے جو مزدوروں کو تحفظ، روزگار کے مواقع اور باعزت زندگی فراہم کرے۔
