
کمرشیل استعمال کے لیے استعمال ہونے والے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے۔ تیل کمپنیوں کے مطابق 19 کلوگرام والے ایک سلنڈر کی قیمت میں اوسطاً 993 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جو آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔ تاہم گھریلو استعمال کے سلنڈر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، جس کی تصدیق مرکزی حکومت نے کی ہے۔
ادھر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔ ایندھن کی ترسیل کے لیے اہم آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو قیمتوں میں اس اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے کمرشیل سلنڈر کی قیمتوں میں یہ تیسرا بڑا اضافہ ہے۔ مارچ میں 144 روپے، یکم اپریل کو 195 روپے اور اب اچانک 993 روپے اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ایک سلنڈر کی قیمت 3 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔
حیدرآباد میں اس کی قیمت بڑھ کر 3,315 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ دہلی میں یہ 3,071 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اس اضافے سے ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے کاروبار پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، اور امکان ہے کہ یہ بوجھ صارفین پر منتقل کیا جائے گا۔ فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے
، جبکہ ہوابازی کے شعبے کو بھی راحت دیتے ہوئے ایوی ایشن ٹربائن فیول کی قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 5 کلوگرام سلنڈر کی قیمت بڑھ کر 914.50 روپے ہو گئی ہے۔
