حیدرآباد میں بچوں کی اسمگلنگ نیٹ ورک پر گجرات پولیس کا بڑا آپریشن، 25 بچوں کی فروخت کا انکشاف

حیدرآباد: کمسن بچوں کی غیر قانونی اسمگلنگ کے ایک سنگین معاملے میں گجرات پولیس نے حیدرآباد کے مختلف اسپتالوں میں بیک وقت دھاوے کئے۔ اس کیس میں ملوث مروگن گینگ کو گجرات پولیس پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے، اور انہی کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر پولیس ٹیم حیدرآباد پہنچی۔

 

مروگن گینگ کو یہاں کن افراد کی پشت پناہی حاصل تھی، اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے۔ کوکٹ پلی، بنجارہ ہلز اور سکندرآباد کے چند فرٹیلٹی سینٹروں میں بیک وقت جانچ کی گئی، جہاں سے کچھ اہم معلومات حاصل ہونے کی اطلاع ہے۔

 

پولیس کے مطابق گزشتہ سال ضلع عادل آباد کے ایک اینٹ بھٹہ میں مزدور کے طور پر کام کرتے ہوئے مروگن بچوں کو غیر قانونی طور پر دیگر ریاستوں میں فروخت کرتا تھا۔ اس سلسلے میں وہ گرفتار بھی ہوا، تاہم تین ماہ بعد رہا ہوگیا۔

 

گزشتہ سال چیتنیہ پوری پولیس اسٹیشن میں درج ایک کیس میں بھی مروگن کا نام سامنے آیا تھا۔ پولیس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مروگن کی بیوی کرشن وینی ایک علیحدہ گینگ چلا رہی تھی۔

 

ادھر گجرات پولیس نے مروگن گینگ کو پہلے ہی حراست میں لے لیا ہے، اور ان کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر حیدرآباد میں یہ دھاوے کئے گئے۔ پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مروگن گینگ نے صرف ایک سال میں 25 کمسن بچوں کو فروخت کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے ملک بھر میں بچوں کی اسمگلنگ کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *