مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیرسعید ایروانی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے غیر قانونی اقدامات سے آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحر عمان میں جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی کو خطرات لاحق ہورہے ہیں۔ ہرمز میں کسی بھی قسم کی بدامنی کا براہ راست ذمہ دار امریکہ اور اس کے حامی ہیں۔
ایروانی نے کہا کہ امریکہ نے غیر قانونی طور پر ایرانی تجارتی جہازوں کو ضبط کیا ہے۔ یہ عمل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور سمندری رہزنی کا نمونہ ہے۔ ایران نے ہمیشہ آبنائے ہرمز اور بحر عمان میں جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے کام کیا ہے۔ ایران نے اپنے ساحلی علاقے میں جہاز رانی کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے عالمی سطح پر امن و امان کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔
ایروانی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری سے اب تک ایران کے خلاف بے جا کارروائیاں کی ہیں جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ ان اقدامات کی وجہ سے علاقے کی سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔
ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کے غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرے اور ایرانی کشتیوں اور ان کے عملے کی آزادی کو فوری طور پر یقینی کرے۔
ایروانی نے کہا کہ ایران کی طرف سے کیے گئے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اپنی قومی سلامتی کے تحت ہیں اور وہ ان کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اقدام کا جواب دے گا۔
ایروانی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو اپنے ساحلی علاقے میں واقع ایک انتہائی اہم اور حساس آبی راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حفاظت کرنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایران اس علاقے میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کی سلامتی اور حقوق کا دفاع کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ خلیج فارس اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں مستقل اور پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ایران کے خلاف غیر قانونی اقدامات کا سلسلہ بند کیا جائے اور ایران کی حاکمیت کا احترام کیا جائے۔ تب ہی علاقے میں استحکام اور امن ممکن ہے۔ ایران اپنی سلامتی اور حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی کارروائی کو برداشت نہیں کرے گا۔
