ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوں گے، جنگ بندی ایران کی کوششوں کا نتیجہ ہے، شیخ نعیم قاسم

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے بھرپور کوششیں اور پاکستان میں مذاکرات کے دوران اس پر اصرار نہ ہوتا، تو لبنان میں جنگ بندی ممکن نہ تھی۔ صہیونی حکومت اب مکمل طور پر بند گلی میں پھنس گئی ہے اور مقاومت اپنی قوت، ایمان اور ارادے کے سہارے ناقابل شکست ثابت ہوئی ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے دشمن سے براہ راست مذاکرات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی حکومت کا موقف ملک کے مفاد میں نہیں بلکہ اپنے ہی نقصان کا باعث ہے۔ حکومت کو عوام کی طرف لوٹنا چاہیے اور قومی حاکمیت کو عوام کے ہاتھوں میں ہونا چاہیے۔  

انہوں نے کہا کہ مقاومت کے ہتھیار لبنان کے دفاع اور دشمن کے تجاوزات کے مقابلے کے لیے ہیں۔ کسی بھی صورت میں ان ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

شیخ نعیم قاسم نے مزید کہا کہ حزب اللہ، تحریکِ امل اور دیگر قومی و عوامی قوتیں یکجا ہیں اور شہداء کے خون کو کسی صورت ضائع ہونے نہیں دیا جائے گا۔ دشمن صہیونی حکومت لبنان کی ایک انچ زمین بھی اپنے قبضے میں نہیں رکھ سکے گی اور تمام شہری اپنی زمینوں پر واپس آئیں گے۔  

انہوں نے کہا کہ لبنان کی تعمیر نو کا آغاز دشمن کی پسپائی، قیدیوں کی آزادی، بے گھروں کی واپسی اور تجاوزات کے خاتمے سے ہوگا۔  

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی حمایت سے دشمن نے مزاحمت کو کمزور کرنے کی کوشش کی، مگر 23 ستمبر 2024 کے “اولی البأس” آپریشن سے لے کر آج تک مسلسل ناکام رہا ہے۔ 2 مارچ 2026 کو دشمن نے فیصلہ کن حملے کی امید لگائی تھی، مگر مزاحمت نے “العصف المأکول” کارروائی سے اسے حیران کر دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ مزاحمت کی کامیابی ایمان، عوامی حمایت، قربانی اور بہترین حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ لبنانی قوم نے آزادی و عزت کا راستہ چنا ہے، جو ذلت و قبضے کے خلاف جدوجہد کی علامت ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *