
ممبئی – ممبئی کے جنوبی علاقے پائدهونی میں پیش آئے دل دہلا دینے والے واقعہ نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جہاں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی مشتبہ طور پر تربوز کھانے کے بعد موت ہوگئی۔
پولیس کے مطابق اتوار کے روز 40 سالہ عبداللہ عبدالقادر، ان کی اہلیہ 35 سالہ نسرین، اور دو بیٹیاں عائشہ (16) اور زینب (13) جاں بحق ہوگئیں۔ عبدالقادر ایک موبائل ایکسیسریز کی دکان چلاتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق عبداللہ ، ان کی اہلیہ نسرین ، اور ان کی دو بیٹیاں عائشہ اور زینب ، جو گنجان آبادی والے علاقے مغل بلڈنگ میں مقیم تھے، ذرائع کے مطابق 25 اپریل کی رات عبداللہ کے خاندان نے اپنے چند رشتہ داروں کو کھانے کی دعوت دی اور سب نے مل کر تقریباً 10:30 بجے بریانی یا پلاو کھایا جس کے بعد دیگر رشتہ دار اپنے گھروں کو چلے گئے۔ رات تقریباً 1 سے 1:30 بجے کے درمیان چاروں افراد نے تربوز کھایا، جس کے بعد ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ پیٹ میں درد اور قئے ہونے لگی ابتدائی طور پر ایک فیملی ڈاکٹر کو بلایا گیا اور چاروں نے دوا لے کر سوگئے
اتوار کی صبح دونوں بیٹیاں بے ہوشی کی حالت میں پائی گئیں، جس پر فوری طور پر طبی امداد فراہم کرتے ہوئے انہیں JJ Hospital منتقل کیا گیا۔ جہاں ایک بیٹی کو مردہ قرار دے دیا گیا جبکہ دوسری نے چند گھنٹوں بعد دم توڑ دیا۔ بعد ازاں والدین کی بھی حالت بگڑتی گئی اور وہ بھی جانبر نہ ہو سکے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق متاثرہ افراد کو الٹی، چکر آنا اور پیٹ میں شدید درد جیسی علامات ظاہر ہوئیں، جس کے بعد ان کی حالت تیزی سے بگڑتی چلی گئی۔ پڑوسیوں نے صورتحال سنگین ہونے پر حکام کو اطلاع دی، جس کے بعد ایمرجنسی خدمات نے فوری کارروائی کی، تاہم ڈاکٹروں کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔
چاروں نعشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور فارنسک و ہسٹوپیتھولوجی رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ موت کی اصل وجہ معلوم ہو سکے۔ ممبئی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ فوڈ پوائزننگ، کسی قسم کی آلودگی یا کوئی اور وجہ تھی جس کے باعث یہ المناک سانحہ پیش آیا۔
