روہت پوار نے مزید کہا، ’’اگر ڈی جی سی اے میں کام رشوت دے کر کرایا جا رہا ہے، تو کوئی بھی آسانی سے یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ رشوت دینے اور بچولیے کا کردار ادا کرنے میں ماہر وی کے سنگھ نے دادا (اجیت پوار) کے حادثہ سے وابستہ دستاویزات کو کس طرح صاف (ثبوت مٹانے کا کام) کیا ہوگا۔ ایک طرف دادا کے حادثہ کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کی گزارش کئے ہوئے دو مہینے گزر گئے لیکن سی بی آئی نے ابھی تک اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا، وہیں دوسری طرف سی بی آئی نے اس معاملہ میں اپنی طرف سے کارروائی کر رہی ہے جو کافی اہم بات ہے۔
خیال رہے کہ روہت پوار نے بارہا ڈی جی سی اے کے اندر ادارتی بدعنوانی اور اس معاملہ سے وابستہ نجی چارٹر طیارہ کے حفاظتی معیار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے صاف طور پر کہا ہے کہ انہیں شک ہے کہ اس طیارہ حادثہ کے پیچھے کوئی سازش بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے الزامات چارٹر آپریٹر وی ایس آر وینچرس اور ڈی جی سی اے کے افسران کے درمیان بدعنوانی کے ایک ’پریشان کرنے والےجال‘ پر مرکوز ہیں۔
