ایران کے خلاف جنگ، چند روزہ کارروائی کا منصوبہ، ایران کے جواب نے توازن بدل دیا

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک، اکثر خارجہ پالیسی میں آسان فتح کا خیال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب طاقت کو صحیح طرح سے نہ سمجھا جائے اور اسے سادہ سمجھ لیا جائے۔ یہ غلط فہمی زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے جب فیصلہ ساز میدان کی پیچیدگیوں کو صرف مختصر مدت تک محدود کر دے اور یہ سوچ لے کہ ایک محدود کارروائی سے بڑا اور دیرپا نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایران کے خلاف 40 روزہ جنگ کے دوران، امریکی صدر نے یہ تصور کر رکھا تھا کہ آسان فتح حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن ایران کے مقابلے میں یہ سوچ نہ صرف ناکام ہوئی، بلکہ وقت کے ساتھ یہ خیال امریکی منصوبہ سازوں کے لیے نقصان کا سبب بن گیا اور جنگ کے توازن کو بدل دیا۔

ابتدائی خیال یہ تھا کہ ایک تیز اور ٹارگٹڈ کارروائی ایران کی فیصلہ سازی کے ڈھانچے کو متاثر کرسکتی ہے اور اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکتی ہے۔ یہ سوچ طاقت کو صرف ہتھیاروں اور تکنیکی برتری تک محدود سمجھتی تھی۔ لیکن میدان کی حقیقت نے یہ ثابت کیا کہ طاقت ایک کثیر جہتی تصور ہے، جو طویل مدتی تیاری، حکمت عملی کی گہرائی، حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت، اور سب سے اہم، داخلی اتحاد پر مشتمل ہے۔ یہی وہ موقع تھا جہاں ابتدائی اندازے غلط ثابت ہوئے۔

ایران گزشتہ دہائیوں سے ایسے حالات کے لیے خود کو تیار کررہا تھا۔ اس ماحول نے ایک حکمت عملی پیدا کی جو برداشت اور استقامت پر مبنی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایسا ڈھانچہ وجود میں آیا جو ابتدائی حملے کا مقابلہ کر سکتا ہے اور حالات کے مطابق فوری طور پر خود کو ڈھال سکتا ہے۔

ایران نے حکمت عملی کے ساتھ حملے کا مقابلہ کیا

جو فیصلے آسان فتح کے تصور پر مبنی ہوتے ہیں، وہ عام طور پر گہرائی سے خالی ہوتے ہیں۔ یہ فیصلے زیادہ تر موجودہ لمحے پر مرکوز ہوتے ہیں اور یہ فرض کرتے ہیں کہ مخالف کے پاس مؤثر جواب دینے کی صلاحیت یا ارادہ نہیں ہے۔ لیکن جب یہ مفروضہ غلط ثابت ہوتا ہے، تو مکمل منصوبہ بگڑ جاتا ہے۔ چھوٹے اور مختصر منصوبے طویل اور مہنگے تنازعات میں پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ وہ فریق جو کارروائی شروع کرتا ہے، سمجھتا ہے کہ کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن یہ کنٹرول تبھی معنی رکھتا ہے جب اسے برقرار رکھا جا سکے۔ اگر مخالف حملے کو روک کرکے خود کو جلد سنبھال لے، تو کنٹرول بتدریج حملہ آور کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ یہی کچھ یہاں ہوا؛ ایران نے اپنے ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے دباؤ مخالف کی طرف منتقل کر دیا۔

داخلی اتحاد بھی بہت اہم ہے۔ قومی طاقت صرف ہتھیاروں اور فوجی صلاحیت تک محدود نہیں بلکہ یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ ملک کے عوام خطرے کے وقت کتنے متحد ہیں۔ جب ملک میں یکجہتی ہو، دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور دشمن کے لیے فائدہ اٹھانے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک اہم بات تھی جسے نظر انداز کیا گیا۔

طویل جنگ میں وقت اور وسائل کی اہمیت

جدید جنگیں وقت پر بہت زیادہ منحصر ہوتی ہیں۔ اکثر منصوبے مختصر مدت میں نتیجہ حاصل کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اگر یہ عرصہ کسی وجہ سے طویل ہوجائے، تو منصوبے بتدریج اپنا اثر کھو دیتے ہیں۔ اخراجات بڑھ جاتے ہیں، داخلی و خارجی دباؤ بڑھتا ہے، اور فیصلہ سازی مشکل ہوجاتی ہے۔ ایسے میں وہ فریق جو مختصر جنگ کے لیے تیار تھا، اچانک ایک طویل تصادم میں پھنس جاتا ہے جس کے لیے ضروری وسائل دستیاب نہیں ہوتے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ابتدائی برتری رنگ کھو دیتی ہے۔ طویل جنگ میں اہمیت اس کو جاری رکھنے کی صلاحیت کی ہوتی ہے۔ جو ملک اپنے وسائل محفوظ رکھ کر دباؤ کو سنبھال سکے، وہ آہستہ آہستہ برتری حاصل کر لیتا ہے۔ یہ عمل فوری طور پر واضح نہیں ہوتا، لیکن طویل مدتی نتائج میں اثر دکھاتا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ توازن میں تبدیلی ہمیشہ فوری فتح کی شکل میں ظاہر نہیں ہوتی۔ یہ چھوٹے لیکن معنی خیز اشاروں کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے، جیسے موقف میں زیادہ محتاط ہونا، بیانات میں نرمی، یا بحران کو بڑھانے کی بجائے قابو پانے کی کوشش۔ یہ اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ ابتدائی اہداف آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں، سخت موقف اور جارحانہ بیانات بھی کبھی کبھار مختلف معنی رکھ سکتے ہیں۔ جب انتخاب محدود ہوجاتے ہیں، تو زبان سخت ہوجاتی ہے؛ لیکن یہ سختی ہمیشہ برتری کا مطلب نہیں ہوتی، بلکہ کبھی کبھار یہ میدان عمل میں موجود کسی کمزوری کو پورا کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

اس کے برعکس، وہ فریق جو اپنا توازن برقرار رکھتا ہے، عام طور پر ایسے رویوں کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ وقت آہستہ آہستہ اس کے حق میں جائے گا اور جتنا تنازع طویل ہوگا، اس کے فوائد اتنے ہی واضح ہوں گے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صبر ایک طاقتور ہتھیار بن جاتا ہے؛ ایک ایسا ہتھیار جو مہنگے اقدامات کیے بغیر ہی تنازع کا رخ بدل سکتا ہے۔

جنگ میں صبر اور حکمت عملی کی اہمیت اور کردار

آخرکار، اس تجربے سے جو سبق حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ طاقت صرف مارنے کی صلاحیت نہیں ہے؛ بلکہ یہ برداشت کرنے، خود کو دوبارہ سنبھالنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ وہ ملک جو یہ تینوں عناصر ایک ساتھ رکھتا ہے، سخت دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکتا ہے اور وقت کے ساتھ اسے مضبوط کرسکتا ہے۔

آسان فتح کا توہم اسی حقیقت کو نظر انداز کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ جب پیچیدگیاں نظر انداز کردی جاتی ہیں اور معاملات کو سادہ سمجھ لیا جاتا ہے، تو فیصلے ظاہری طور پر پرکشش لگتے ہیں، لیکن عملی طور پر بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ ایسے میں وہ فریق جو حقیقت کو بہتر سمجھتا ہے اور مختلف ممکنہ حالات کے لیے تیار ہوتا ہے، انہی غلطیوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے۔

دنیا میں طاقت کا توازن پہلے جیسا نہیں رہا۔ ماضی میں کسی ملک کی طاقت کا اندازہ لگانے کے لیے چند روایتی چیزیں دیکھی جاتی تھیں، مگر اب حالات بدل رہے ہیں اور دنیا زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔ اب طاقت کا اندازہ صرف پرانے پیمانوں سے لگانا آسان نہیں رہا، کیونکہ نئے عوامل بھی اہم ہو گئے ہیں۔ اگر بڑی طاقتیں ان نئے عوامل کو نظر انداز کریں تو وہ بھی مشکلات کا شکار ہوسکتی ہیں۔

ایران نے اس دوران یہ دکھایا کہ اگر کوئی ملک تیاری، لچک اور اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد رکھے تو وہ کشیدہ حالات سے نہ صرف گزر سکتا ہے بلکہ انہیں اپنے لیے نئے مواقع میں بھی بدل سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اصل اہمیت صرف موجودہ حالات کی نہیں ہوتی بلکہ اس بات کی ہوتی ہے کہ مستقبل کے بارے میں بہتر منصوبہ بندی کیسے کی جائے۔ جو ملک آنے والے حالات کا درست اندازہ لگا کر پہلے سے تیاری کر لیتا ہے، وہ بحران کے دوران بھی اپنا راستہ بنا لیتا ہے اور محض نتائج کا انتظار کرنے کے بجائے خود انہیں تشکیل دینے کی پوزیشن میں آ جاتا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *